کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کیا ہے اور کیا نہیں ہے، کس کی ہے اور کس کی نہیں ہے، کیوں ہے اور کیوں نہیں ہے، صاحب! یہ سب ہمیں معلوم نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ اس لیے اگر بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس سے دوری بنائے رکھی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے……. کہ کہنے والے کہہ گئے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کہ صاحب انا ہزارے کے ’آندولن‘ کا حشر کیا ہوا تھا وہ ’زخم‘ اب بھی تازہ ہی ہے…….اسی لیے سیاسی جماعتوں نے سی جے پی سے دوری بنائے رکھی ہے یا اس کے نزدیک نہیں آ رہیں۔لیکن……. لیکن اپنے گورے گورے بانکے چھورے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جماعت، نیشنل کانفرنس کے بارے میں تو سب جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے، کس کی ہے اور کس کی نہیں ہے، کیوں ہے اور کیوں نہیں ہے…….اس میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہے۔ہاں، خود این سی کی قیادت کو ابہام ہو سکتا ہے، البتہ لوگوں کو کوئی ابہام نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔لیکن……. لیکن پھر بھی سبھی سیاسی جماعتوں نے این سی کے دہلی احتجاج سے دوری بنائے رکھی……. اللہ میاں کی قسم، کوئی نہیں آیا……. ایک بھی نہیں آیا۔ حالانکہ دعوتِ عام سب کو تھی۔ انڈیا بلاک کی سبھی اکائیوں کو مدعو کیا گیا تھا……. لیکن سب کی سب غائب تھیں‘جس طرح گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں‘اسی طرح یہ سب کی سب غائب تھیں۔کیوں غائب تھیں؟ اللہ میاں کی قسم، ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، پر کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ہے……. بالکل بھی نہیں آ رہا ہے۔ اور اس لیے بھی نہیں آ رہا ہے کہ صاحب! اپنے گورے گورے بانکے چھورے نے پہلے ہی توبہ کی تھی …….معاف کیجیے گا، پہلے ہی لکھ کر دیا تھا کہ دہلی احتجاج میں ایسا ویسا کوئی نعرہ نہیں دیا جائے گا…….بالکل بھی نہیں دیا جائے گا، جس سے پرائے تو پرائے، اپنے بھی خفا ہوں۔اور وزیر اعلیٰ صاحب نے اپنا یہ وعدہ بڑی ایمانداری سے نبھایا……. دہلی بھلے ہی اپنا کوئی وعدہ نہ نبھائے، لیکن ایک کشمیری نے دہلی میں اپنا وعدہ نبھایا اور……. اور ایک ہی مطالبہ کیا، صرف ایک…….ریاستی درجے کی بحالی کا۔لیکن پھر بھی ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا……. نہ آگے، نہ پیچھے، نہ دائیں، نہ بائیں…….صرف ان کے متوقع جانشین، دو بیٹے، تھے اور کوئی نہیں تھا…….کیوں نہیں تھا؟ ہم نہیں جانتے ہیں۔ہے نا؟



