جموں؍۱۳ جولائی
جموں کی ایک عدالت نے علیحدگی پسند رہنماؤں کی مبینہ طور پر ستائش پر مبنی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کے معاملے میں گرفتار تین ناشروں کو۱۰ روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔ حکام نے پیر کے روز یہ جانکاری دی۔
حکام کے مطابق کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ، جموں نے اتوار کے روز ان تینوں ناشروں کو اس جاری تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا، جو سرکاری لائبریریوں کو فراہم کی گئی بعض ایسی کتابوں کے تنازع کے بعد شروع کی گئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند رہنماؤں کی تعریف و توصیف پر مبنی مواد شامل ہے۔
متنازع کتابوں میں ’پرسنالٹیز اینڈ لیجنڈز آف جموں و کشمیر‘ شامل ہے، جس کے مصنفین ہلال احمد اور سنتوش مینا ہیں اور اسے جموں کے اوبیرائے بک سروس نے شائع کیا ہے۔ دوسری کتاب ’گریٹ پرسنالٹیز آف جموں اینڈ کشمیر‘ ہے، جسے سشانت گیری نے تحریر کیا ہے اور دہلی کے انوراگ پرکاشن نے شائع کیا ہے۔
گرفتار ناشروں میں اوبیرائے بک سروس کے اندر پال اور نوئیڈا کی ڈومیننٹ پبلشرز سے وابستہ امر دیپ سنگھ اور گریش اروڑا شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تینوں کو ورچوئل ذریعے سے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے مزید تفتیش کے لیے انہیں۱۰ روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیجنے کی اجازت دے دی۔
اس سے قبل حکومت اوبیرائے بک سروس اور ڈومیننٹ پبلشرز، دونوں کو بلیک لسٹ کر چکی ہے۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ٹیموں نے۶ جولائی کو ان کے دفاتر پر چھاپے بھی مارے تھے۔
واضح رہے کہ۴ جولائی کو کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔










