کیا وزیر اعلیٰ صاحب آپ بھی نا چھوٹی چھوٹی باتوں سے چڑ جاتے ہیں …….بالکل ایک بچے کی طرح ‘ حالانکہ آپ نے رہے سہے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں ‘ بالکل بھی نہیں کئے ہیں ۔ میڈم ……. میڈم محبوبہ جی آپ کو چڑا ر ہی ہیں اور آپ چڑ رہے ہیں ۔ایسا تھوڑے ہی ہو تا ہے ‘ میڈم جی اپوزیشن لیڈر ہیں اور وہ اپوزیشن میں ہیں‘اس لئے لوگوں کو اس کا یقین دلانے کیلئے میڈم جی کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے ……. سو وہ کبھی کبھی آپ پر اپنی باتوں کے تیر چلاتی ہیں اور آپ محترمہ کے تیروں کے دفاع کرنے میں لگ جاتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ صاحب !کیا آپ کو کوئی اور کام دھندہ نہیں ہے ‘آپ اتنے ویلے ہیں کہ ……. کہ آپ کو اس بات کا انتظار رہتا ہے کہ کب میڈم جی آپ اور آپ کی لولی لنگڑی حکوت کے بارے میںکچھ کہے اور آپ یکدم سے میان سے اپنی تلوار باہر نکالتے ہیں ……. عزت مآب وزیرا علیٰ صاحب ‘ آپ وزیرا علیٰ ہیں او ر یہ آپ کو زیب نہیں دیتا ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہو تا ہے ۔ رہی بات کہ کیا آپ نے ۲۵ہزار تقرریاں چور دروازے سے عمل میں لائی ہیں تو ……. تو اگر آپ نے ایسا کیا بھی ہو گا تو …….توہمارے لئے یہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے کہ لوگ ایسی باتوں کو سننے کیلئے تیار ہو تے ہیں اور اس لئے ہو تے ہیں کہ بھلا وہ بھی کیا حکومت ہوئی جس کے ہاں چور دروازے سے تقرریاں نہ ہوں ۔ ہمارا تو جاننا اور ماننا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور جب بات کشمیر‘ جموںکشمیر کی ہو تو پھر تو یہ ممکن ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ ……. کہ ایسا نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے میڈم جی کے اس الزام میں ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘ کہا ہے ……. لیکن انہیں یہ بھی کہنے کی ضرورت نہیں تھی اور اس لئے نہیں تھی کہ یہ جو پبلک ہے وہ سب جانتی ہے…….وہ بھی جانتی ہے جو میڈم جی کے دوراقتدار میں ہوا اور اس دور اقتدار میں جو کچھ بھی ہوا وہ میڈم جی بھی جانتی ہیں …….اسی لئے تو ہم وزیر اعلیٰ صاحب سے کہہ رہے ہیں کہ جناب آپ سب اس حمام میں ……. ہاں سمجھ گئے نا آپ ۔ اس لئے آپ میڈم جی کے الزامات کا جواب نہ ہی دیں تو بہتر ہو گا اور اس لئے ہو گا کہ …….کہ ایسا ہو نہیں سکتا‘بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ میڈم جی جو کہہ رہی ہوں وہ سب جھوٹ ہو کہ ……. کہ میڈم جی خود بھی سی ایم رہی ہیں اور جانتی ہیں کہ تقرریاں کس کس دروازے سے ہو تی ہیں ‘ کیں جاتی ہیں ۔ ہے نا؟




