آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے فہرستیں بھجوائی گئیں:محبوبہ
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۵ جون
جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر کی نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت نے اپنے تقریباً۲۵ ماہ کے دورِ اقتدار میں۲۵ ہزار ’بیک ڈور تقرریاں‘ کی ہیں۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا’’۲۵ ماہ میں تقریباً۲۵ ہزار بیک ڈور تقرریاں ہوئی ہیں۔ میرے پاس ان کے احکامات موجود ہیں، لیکن میں ان افراد کے تحفظ کے پیشِ نظر ان کی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔ ان تقرریوں کے لیے کسی دوسرے امیدوار کا انٹرویو بھی نہیں لیا گیا‘‘۔
محبوبہ نے کہا کہ یہ معمولی نوعیت کی اسامیاں نہیں تھیں بلکہ جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں موجود اسامیوں کو حکومت نے اپنے وزراء، اراکینِ اسمبلی اور اتحادی جماعتوں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے کہا’’میرا خیال ہے کہ بی جے پی کا بھی اس میں حصہ ہے، اسی لیے وہ خاموش ہے اور اس معاملے پر کوئی احتجاج نہیں کر رہی‘‘۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت کو ان تقرریوں کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن میں الزام لگایا گیا کہ امیدواروں سے دو سے تین لاکھ روپے تک وصول کیے گئے۔
محبوبہ نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کیلئے تقریباً۲۰۰ نجی آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق کچھ عرصے کے لیے ایک ویب سائٹ کھولی گئی، جہاں امیدواروں سے فارم پُر کروائے گئے، اور فارم جمع ہوتے ہی ویب سائٹ بند کر دی جاتی تھی۔
پی ڈی پی صدر نے مزید الزام لگایا کہ حکومت اپنی تیار کردہ فہرستیں آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کو فراہم کرتی تھی، جن کے ذریعے تقرریوں کا عمل مکمل کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا’’ایک رمضان صاحب ہیں، ایک آیوش صاحب ہیں۔ میں ان کے عہدوں کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔ مختلف محکموں میں ایسے کئی افراد تھے، چاہے وہ ان کے تعلقاتِ عامہ کے افسر (پی آر او) ہوں یا سیکریٹری، جو اراکینِ اسمبلی سے فہرستیں لیتے تھے اور پھر وہ آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کو دی جاتی تھیں‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے الزام لگایا کہ یہ تقرریاں کسی بھی قسم کے اشتہار کے بغیر کی گئیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان ’بیک ڈور تقرریوں‘ کو فوری طور پر روکا جائے۔انہوں نے کہا’’اس قسم کی بیک ڈور تقرریاں بند ہونی چاہئیں، اور اگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود اس کی سرپرستی نہیں کر رہے تو اس معاملے میں کارروائی ہونی چاہیے‘‘۔
کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کے اندر بعض حلقے اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ان کے دکھ اور تکلیف کو ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’یہ اچھی بات ہے کہ کشمیری پنڈت اب واپس آ رہے ہیں، لیکن ان میں کچھ ایسے حلقے ہیں جو اپنا ایجنڈا چلانے کے لیے ان کے درد کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کو ایسے عناصر سے خود کو الگ کرنا چاہیے‘‘۔
سابق وزیرا علیٰ نے مزید کہا’’انہیں ماضی میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ جموں و کشمیر میں مارے جانے والوں میں تقریباً۹۹ فیصد مسلمان تھے، جبکہ صرف ایک فیصد ہمارے پنڈت بھائی تھے، جن کی آبادی بھی بہت کم ہے۔‘‘










