کرنل، میجر سمیت دیگر اہلکار نامزد؛ اقدام کو منصوبہ بند حملہ قرار، فوج نے تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵ جون
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پولیس نے فوج کے تقریباً۴۰؍اہلکاروں، جن میں ایک کرنل، ایک میجر اور ایک نائب صوبیدار بھی شامل ہیں، کے خلاف پولیس تھانے پر مبینہ حملہ، پولیس اہلکاروں پر تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں۱۷ راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر کرنل این ارون گاندھی، میجر وکاس شرما، نائب صوبیدار شنکر گورکھے اور۳۰ سے۴۰ نامعلوم فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ضلع کشتواڑ کے اتھولی پولیس تھانے میں زبردستی داخل ہو کر سرکاری افسران اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔
ملزمان کے خلاف اقدامِ قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی طور پر پولیس تھانے میں داخل ہونے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی فوج نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔
فوج کے ترجمان نے کہا’’یہ معاملہ اتھولی، کشتواڑ کے مقامی پولیس تھانے میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ اس کا جائزہ متعلقہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت لیا جا رہا ہے۔ بھارتی فوج قانونی کارروائی میں مکمل تعاون کرے گی اور مشترکہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔ چونکہ تحقیقات جاری ہیں، اس مرحلے پر مزید تبصرہ قبل از وقت ہوگا‘‘۔
ایف آئی آر کے مطابق مبینہ حملے میں اس وقت کے سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) وجے کمار بھگت اور پولیس اسٹیشن اتھولی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) امرت کاٹوچ بھی زخمی ہوئے۔
ایس ایچ او کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وہ بلاک ڈیولپمنٹ آفس پڈر میں ایک سرکاری تقریب میں شریک تھے، جس کی صدارت ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ پولیس تھانے میں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے، جس پر وہ فوری طور پر واپس پولیس اسٹیشن پہنچے۔
ایف آئی آر کے مطابق’’جیسے ہی دستخط کنندہ پولیس اسٹیشن کے احاطے میں داخل ہوا، میجر وکاس شرما کی قیادت میں موجود فوجی اہلکاروں نے اس پر جسمانی حملہ کر دیا۔ ہاتھا پائی کے دوران میری وردی کی قمیص پھاڑ دی گئی اور ایس ڈی پی او وجے کمار بھگت پر بھی تشدد کیا گیا‘‘۔
پولیس کا الزام ہے کہ یہ حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا اور متعدد پولیس اہلکار اس میں زخمی ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق فوجی اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور سرکاری اسلحے سے لیس تھے۔ انہوں نے مرکزی دروازہ اور چاردیواری پھلانگ کر زبردستی پولیس تھانے میں داخل ہو کر حملہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر (اے آر ٹی او) کشتواڑ نے فوج کی ایک گاڑی ضبط کر لی تھی، جس کے بعد فوجی اہلکار پولیس تھانے پہنچ گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران اے آر ٹی او کشتواڑ اور ان کے ساتھ موجود ذاتی حفاظتی اہلکاروں (پی ایس اوز) کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے سرکاری اور عوامی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ اے آر ٹی او، ایس ایچ او اور ایس ڈی پی او کی سرکاری گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ پولیس تھانے کا مرکزی دروازہ بھی نقصان پہنچایا گیا۔
پولیس نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آور مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے اور ان کا مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے’’لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں اور اسلحہ و گولہ بارود سے لیس یہ گروہ زبردستی مرکزی دروازہ اور دیوار پھلانگ کر پولیس تھانے میں داخل ہوا۔ ان کا مشترکہ ارادہ پولیس اہلکاروں کو مہلک زخمی کرنا اور انہیں قتل کرنا تھا۔ پولیس اسٹیشن سے زبردستی داخل ہونے اور حملے کی اطلاع ملتے ہی دستخط کنندہ فوری طور پر واپس پہنچا۔‘‘










