(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵ جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے یومِ عاشورہ، دسویں محرم الحرام، کی آمد کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور ان کے وفادار رفقا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعۂ کربلا حق، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کی ایک ابدی مثال ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے کربلا میں جو عظیم قربانیاں پیش کیں، وہ پوری انسانیت کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا سرچشمہ رہیں گی۔ ان قربانیوں نے حق، انصاف اور انسانی عظمت کے اعلیٰ ترین اصولوں کو زندہ رکھا‘‘۔
سنہا نے عوام پر زور دیا کہ وہ ان آفاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ایک پرامن، ترقی یافتہ، انصاف پر مبنی اور مساوات پر قائم معاشرے کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔
دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی عاشورہ کے موقع پر حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حق، انصاف اور صداقت کی سربلندی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سانحۂ کربلا ظلم و جبر کے خلاف جرات، استقامت اور مزاحمت کی لازوال علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیتؑ اور رفقا کے ہمراہ ایمان، عدل، رحم دلی اور انسانی وقار کی خاطر عظیم ترین قربانی پیش کر کے اعلیٰ انسانی اقدار کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’کربلا کا پیغام زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ یہ انسانیت کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، اخلاقی اقدار کی پاسداری کرنے اور ہر حال میں حق و صداقت کا ساتھ دینے کی تلقین کرتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات اور ان کی عظیم قربانی آج بھی پوری دنیا کے انسانوں کے لیے امید، رہنمائی، ایثار، دیانت داری اور انصاف کے لیے ثابت قدم رہنے کا سرچشمہ ہے۔
عمرعبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شہدائے کربلا کی پیش کردہ لازوال اقدار کو اپنی زندگیوں میں اپنائیں اور معاشرے میں امن، بھائی چارے، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
اس موقع پر عمر عبداللہ نے عاشورہ کے موقع پر عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں دائمی امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے شہدائے کربلا کے بلند درجات اور تمام لوگوں کی سلامتی، خیر و عافیت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی دعا کی۔










