ایجنسیاں
بانڈی پورہ؍۲۵ جون
اپنی پارٹی کے صدر‘ الطاف بخاری نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس کی ریاستی درجے کی بحالی کی مہم کو’قلیل مدتی سیاست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہم بھی جلد ہی ماضی کے دیگر سیاسی نعروں کی طرح ختم ہو جائے گی۔
شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس کے فوری سیاسی مفادات پورے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے بنیادی مطالبات سے دستبردار ہو جاتی ہے۔
اپنی پارٹی کے سربراہ نے کہا’’نیشنل کانفرنس کا ایک ریکارڈ ہے۔۱۹۵۳ میں انہوں نے پلیبیسائٹ فرنٹ بنایا، لیکن بائیس برس بعد اسے آوارہ گردی قرار دے دیا۔ پھر خودمختاری (آٹونومی) کا مطالبہ کیا، لیکن جب وہ حاصل نہ ہوئی تو اسے بھی چھوڑ دیا۔ اب ریاستی درجے کی بحالی کی باتیں کی جا رہی ہیں، مگر یہ بھی چند دن کی بات ہے۔ جب ان کے اپنے مفادات پورے ہو جائیں گے تو ایک ماہ بعد یہ معاملہ بھی ختم ہو جائے گا‘‘۔
بخاری نے کہا کہ جب وہ خود۲۰۲۰‘۲۰۲۲؍اور۲۰۲۳ میں ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے تو یہی نیشنل کانفرنس انہیں غدار اور دہلی کا ایجنٹ قرار دے رہی تھی۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا’’ہم پر غداری اور بے وفائی کے فتوے لگائے گئے، صرف اس لیے کہ ہم ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس وقت کہا جاتا تھا کہ ہم دہلی کا ایجنڈا نافذ کر رہے ہیں، لیکن آج خوشی ہے کہ وہی لوگ بھی مان رہے ہیں کہ ریاستی درجہ ہی جموں و کشمیر کے عوام کی ضرورت ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کی دعوت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بخاری نے اس طرزِ عمل کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا’’یہ کوئی بریانی کی دعوت نہیں کہ آپ لوگوں سے کہیں کہ آ جاؤ، بریانی کھاؤ۔ ایسے معاملات میں پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جاتی ہے، پھر مشترکہ حکمت عملی طے کی جاتی ہے‘‘۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر بخاری نے کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اپنی جگہ اہم معاملہ ہے، لیکن جموں و کشمیر کے عوام آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا’’ریاستی درجہ واپس آ جائے، چاہے جو بھی اسے واپس لائے، لیکن ایک بات طے ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام آرٹیکل۳۷۰ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘










