آنتوں کی صحت بحال ہو سکتی ہے‘۱۲ہفتوں کے منظم یوگا پروگرام سے ذہنی صلاحیت، مزاج اور مفید آنتی جراثیم میں بہتری دیکھی گئی: ایمس مطالعہ
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۰ جون
آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) دہلی کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق یوگا الزائمر بیماری کے مریضوں میں ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، ڈپریشن کی علامات کم کرنے اور آنتوں میں موجود مفید جراثیم کے توازن کو جزوی طور پر بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایمس کے شعبہ اناٹومی اور شعبہ نیورولوجی کی مشترکہ تحقیق، جو جون میں ’’جرنل آف الزائمر ڈیزیز‘‘ میں شائع ہوئی، میں بتایا گیا ہے کہ۱۲ ہفتوں پر مشتمل ایک منظم یوگا پروگرام الزائمر کی ابتدائی سطح کے مریضوں میں ذہنی کارکردگی اور مزاج میں نمایاں بہتری کے ساتھ ساتھ آنتوں کے جرثومی نظام (گٹ مائیکرو بایوم) میں مثبت تبدیلیوں سے منسلک پایا گیا۔
ایمس کے شعبہ اناٹومی کی پروفیسر اور تحقیق کی متعلقہ مصنفہ ڈاکٹر ریما دادا نے کہا کہ اس تحقیق سے ابتدائی شواہد ملتے ہیں کہ یوگا جیسی طرزِ زندگی کی مداخلتیں آنتوں میں ایک زیادہ صحت مند جرثومی ماحول پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یوگا کے بعد مفید بیکٹیریا میں اضافہ اور سوزش پیدا کرنے والے جراثیم میں کمی ایسے حیاتیاتی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے جو دماغی صحت میں بہتری کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘
ایمس دہلی کے شعبہ نیورولوجی کی سربراہ ڈاکٹر منجری ترپاٹھی نے کہا، ’’اگرچہ یوگا کو الزائمر بیماری کا علاج قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی الزائمر اور ہلکی ذہنی کمزوری کے مریضوں کے لیے یہ ایک معاون علاج کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم نے ذہنی صلاحیتوں اور مزاج میں بہتری کے ساتھ ساتھ آنتوں کے جرثومی نظام میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھی ہیں، جو گٹ اور دماغ کے درمیان تعلق پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔‘‘
الزائمر، جو ڈیمنشیا کی سب سے عام شکل ہے، یادداشت میں بتدریج کمی اور ذہنی صلاحیتوں کے زوال کی بیماری ہے۔ بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ آنتوں میں موجود جراثیم میں تبدیلیاں ’’گٹ۔برین ایکسس‘‘ کے ذریعے دماغی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
اس تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن میں طبی طور پر ابتدائی الزائمر کی تشخیص ہو چکی تھی، جبکہ ایک گروپ میں ذہنی طور پر صحت مند افراد بھی شامل تھے۔
الزائمر کے مریضوں نے۱۲ ہفتوں تک روزانہ۶۰ منٹ کے زیر نگرانی یوگا سیشنز میں حصہ لیا، جبکہ محققین نے مداخلت سے پہلے اور بعد میں ان کی ذہنی کارکردگی، ڈپریشن کی علامات اور آنتوں کے جرثومی نظام کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق مونٹریال کاگنیٹو اسیسمنٹ اسکور، جو ذہنی صلاحیتوں کی پیمائش کا ایک معروف پیمانہ ہے، یوگا پروگرام کے بعد نمایاں طور پر بہتر ہوا۔اسی طرح مریضوں کے ہیلتھ کوئسچنائر کے ذریعے ناپے گئے ڈپریشن اسکور میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔
محققین نے یوگا کے بعد آنتوں کے جرثومی نظام میں بھی اہم تبدیلیاں نوٹ کیں۔وہ مفید بیکٹیریا، جو شارٹ چین فیٹی ایسڈز پیدا کرتے ہیں اور سوزش میں کمی کے ساتھ آنتوں اور دماغی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں، ان کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔
ان میں فیسیلی بیکٹیریم پراوسنیٹزی، روزیبوریا انٹسٹینالس، بائیفیڈوبیکٹیریم اور اکرمانسیا شامل ہیں۔اس کے برعکس کولنز یلا ایروفیشینس اور کلیبسیلا جیسے ممکنہ طور پر نقصان دہ اور سوزش پیدا کرنے والے جراثیم کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔
تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یوگا پروگرام کے بعد الزائمر کے مریضوں کے آنتی جرثومی پروفائل صحت مند افراد کے پروفائل سے زیادہ مشابہ ہو گئے، جو جرثومی توازن کی جزوی بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
محققین کے مطابق نتائج اس امکان کی حمایت کرتے ہیں کہ یوگا ذہنی دباؤ کم کرکے، خودکار اعصابی نظام کے توازن کو بہتر بنا کر اور مفید جراثیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرکے گٹ۔برین ایکسس پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا، ’’ان جرثومی اور فعلی بہتریوں کے ساتھ ذہنی کارکردگی میں اضافہ اور ڈپریشن کی علامات میں کمی بھی دیکھی گئی، جو الزائمر کے مریضوں میں گٹ۔برین ایکسس کی مثبت تنظیم کی نشاندہی کرتی ہے۔‘‘
تاہم محققین نے خبردار کیا کہ اس تحقیق کی کچھ اہم حدود بھی ہیں، جن میں نمونے کا محدود حجم اور کسی متبادل مداخلت حاصل کرنے والے کنٹرول گروپ کی عدم موجودگی شامل ہے۔
تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ ان نتائج کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر بے ترتیب کنٹرول شدہ مطالعات، طویل مدتی مشاہدہ، غذائی نگرانی اور میٹابولک و مدافعتی اشاریوں کے ساتھ مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ آیا یوگا ہی براہِ راست ان جرثومی اور ذہنی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے یا نہیں۔
ان حدود کے باوجود یہ تحقیق ان بڑھتے ہوئے شواہد میں اضافہ کرتی ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ یوگا الزائمر کے مریضوں میں ذہنی اور جذباتی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک آسان، کم خرچ اور غیر دوائی معاون طریقۂ علاج ثابت ہو سکتا ہے۔










