نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی نئی امنگ پیدا ہوئی: جتیندر سنگھ
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۲۰جون
مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں لوگوں کی ذہنیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور نوجوانوں میں آگے بڑھنے اور کامیابی حاصل کرنے کی نئی امنگ پیدا ہوئی ہے۔
ایک نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ’’امنگوں اور خواہشات کا نیا ابھار‘‘ دیکھنے کو ملا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا، ’’میرے خیال میں سب سے بڑی اور اہم تبدیلی ذہنیت میں آئی ہے۔ آج چھوٹے شہروں کے بچے امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور سرفہرست آ رہے ہیں۔ یہ نئی امنگ اور خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے اور انہیں وابستگی کا احساس ملا ہے، جو پہلے موجود نہیں تھا۔ آرٹیکل۳۷۰ کی وجہ سے وہ خود کو دوسروں سے مختلف سمجھتے تھے اور باہر کے لوگ بھی انہیں الگ تصور کرتے تھے۔‘‘
جتیندر سنگھ نے کہا کہ آرٹیکل۳۷۰کے خاتمے کے بعد لوگوں میں برابری کا احساس پیدا ہوا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا، ’’بیٹیوں کو اپنی جائیداد پر مکمل حقوق حاصل نہیں تھے اور پاکستان سے آنے والے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی حاصل نہیں تھا۔ اب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی بھارت کے مساوی شہری ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے اگست۲۰۱۹ میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل۳۷۰کو منسوخ کرتے ہوئے سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا تھا۔
ایک اور سوال کے جواب میں جتیندر سنگھ نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کے حوالے سے حکومت کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہی وہ واحد رہنما ہیں جو اس ’’باقی ماندہ مسئلے‘‘ کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مرکزی وزیر نے۱۹۹۴ میں پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد میں جموں، کشمیر اور لداخ کے پورے خطے کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا گیا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔
پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں کے عوام کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ پی او جے کے کے باشندوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا، ’’پی او جے کے کے عوام کے ساتھ ہمیشہ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا برتاؤ کیا گیا ہے۔۱۹۹۴میں پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بی جے پی نے حمایت کی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے۔ اگر کوئی حل طلب مسئلہ ہے تو وہ پی او جے کے کا ہے اور یہ کہ اسے دوبارہ بھارتی جمہوریہ کا حصہ کیسے بنایا جائے۔‘‘
مرکزی وزیر نے دعویٰ کیا، ’’اگر ایسا ہونا ہے تو صرف وزیر اعظم مودی ہی یہ کام کر سکتے ہیں۔ کوئی اور ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کے پاس صلاحیت بھی ہے، حوصلہ بھی ہے اور پختہ یقین بھی۔‘‘










