آئندہ برسوں میں عالمی ترقی، اختراع اور صنعت کاری کی قیادت بھارتی نوجوان کریں گے:وزیر اعظم مودی
پی ایم وکست بھارت روزگار یوجنا کے تحت۷۰ لاکھ روزگار کے مواقع پیدا‘۱۵لاکھ نئے ملازمین‘۲۴۰۰کروڑ روپے کی ترغیبات جاری
نئی دہلی؍۱۹جون
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) کے تحت اب تک ملک بھر میں۷۰ لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر۱۵ لاکھ پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے نوجوانوں اور ان کے آجروں کے لیے۲۴۰۰ کروڑ روپے مالیت کی ترغیبات بھی جاری کیں۔
یہ رقم براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مستحقین کے کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب حکومت، نوجوان اور صنعت مل کر کام کرتے ہیں تو روزگار کے مواقع کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم وکست بھارت روزگار یوجنا نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ اس کے تحت مستفیدین کو سماجی تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
مودی نے کہا کہ حکومت ایسے اداروں اور آجروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نئے روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اسکیم پہلی بار ملازمت حاصل کرنے والے نوجوانوں اور صنعتوں کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’پی ایم وکست بھارت روزگار یوجنا کے ذریعے ہم روزگار کے مواقع کو فروغ دے رہے ہیں، نوجوانوں کو بااختیار بنا رہے ہیں اور مستقبل کے لیے ایک مضبوط افرادی قوت تیار کر رہے ہیں۔‘‘
مودی نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں نوجوانوں کی امنگیں، صلاحیتیں اور ہنر کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور آئندہ برسوں میں عالمی ترقی، اختراع اور صنعت کاری کی قیادت بھارتی نوجوان ہی کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اکیسویں صدی میں وہی ممالک کامیاب ہوں گے جو باصلاحیت افرادی قوت تیار کریں، اختراعات کو فروغ دیں اور اعلیٰ معیار کو برقرار رکھیں، جبکہ بھارت ان تینوں شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
پی ایم-وی بی آر وائی کے تحت حکومت نے۹۹ ہزار۴۴۶ کروڑ روپے مختص کیے ہیں اور دو برسوں میں۳ء۵ کروڑ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت پہلی بار ملازمت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو۱۵ ہزار روپے تک کی مالی مدد دی جاتی ہے، جبکہ نئے ملازمین کو روزگار فراہم کرنے والے آجروں کو فی ملازم ماہانہ۳۰۰۰روپے تک کی ترغیب دی جاتی ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کے فروغ کے لیے اس اسکیم کے فوائد چار برس تک جاری رکھنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے بھارت کی نوجوان آبادی کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا خواب نوجوانوں کی امنگوں، مہارتوں اور صلاحیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران حکومت نے روزگار کے ہر ممکن راستے کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
مودی نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچے، اختراعات، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت، خلائی ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کیا گیا ہے، جبکہ ’’میک اِن انڈیا‘‘، ’’ووکل فار لوکل‘‘ اور مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے جیسے اقدامات نے روزگار اور خود روزگاری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
وزیر اعظم نے ملک میں اسٹارٹ اپ کلچر کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی قبل جہاں صرف۵۰۰ اسٹارٹ اپس موجود تھے، آج ان کی تعداد بڑھ کر دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ تقریباً ہر ضلع میں سرگرم عمل ہیں۔
مودی نے حالیہ فرانس دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انڈیا انوویٹس‘‘ پروگرام میں مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، سبز توانائی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بھارتی اسٹارٹ اپس اور عالمی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، جو بھارت کے اختراعی ماحولیاتی نظام پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت مختلف ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کر رہا ہے، جس سے بھارتی صنعتوں کے لیے نئی منڈیاں کھل رہی ہیں اور پیشہ ور افراد کے لیے مزید مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
مودی نے مزید کہا کہ حکومت نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران روزگار کو تحفظ، وقار اور سماجی سلامتی کے ساتھ جوڑنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ای پی ایف او کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے، پنشن کے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے اور لاکھوں کارکنوں کو صحت بیمہ اور سستی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعظم نے خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نائٹ شفٹ سے متعلق اصلاحات، گھر سے کام کرنے کے مواقع اور کام کی جگہوں پر تحفظ کے بہتر انتظامات خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
مودی نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کر سکے اور بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔










