جب عام آدمی کی آواز شور میں دب جائے
صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صحافت صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ صحافی کا کام صرف اقتدار کے ایوانوں، سیاسی جماعتوں، وزیروں، ارکانِ اسمبلی اور دیگر بااثر شخصیات کے بیانات کو عوام تک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ ان لوگوں کی آواز کو بھی سامنے لانا ہوتا ہے جو خود اپنی بات مؤثر انداز میں نہیں پہنچا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کو ہمیشہ عوامی مفاد سے جوڑا گیا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران، خاص طور پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد، صحافت کے اس بنیادی فریضے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
پرنٹ میڈیا ایک طویل عرصے تک عوامی مسائل، سماجی موضوعات اور زمینی حقائق کو اجاگر کرنے کا سب سے اہم ذریعہ رہا۔ اخبارات کے صفحات پر نہ صرف حکمرانوں کی سرگرمیوں کو جگہ ملتی تھی بلکہ عام شہریوں کے مسائل، کسانوں کی پریشانیاں، مزدوروں کے مطالبات، طلبہ کے مسائل اور دور دراز علاقوں کے حالات بھی زیر بحث آتے تھے۔ لیکن ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے صحافت کے انداز اور ترجیحات دونوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
آج کل پوڈ کاسٹ، ویڈیو انٹرویوز اور سوشل میڈیا پروگرام صحافت کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ یہ تبدیلی اپنی جگہ مثبت بھی ہے کیونکہ اس نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے اور اظہار کے نئے ذرائع فراہم کیے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک تشویشناک رجحان بھی پیدا ہوا ہے۔ خاص طور پر کشمیر میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بیشتر پوڈ کاسٹ اور ڈیجیٹل پروگراموں میں صرف سیاست دانوں، سرکاری شخصیات، کاروباری اشرافیہ اور دیگر بااثر افراد کو جگہ دی جاتی ہے۔ انہی کے انٹرویوز ہوتے ہیں، انہی کے خیالات نشر کیے جاتے ہیں اور انہی کے بیانیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام آدمی کی آواز پس منظر میں چلی گئی ہے۔ ایک کسان جو موسمی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہے، ایک نوجوان جو روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے، ایک تاجر جو معاشی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، ایک مریض جو صحت کی سہولیات کے فقدان سے دوچار ہے یا ایک دیہاتی جو بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، ان سب کے مسائل میڈیا کے مرکزی دھارے سے تقریباً غائب ہوتے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا، عالمی تجارت متاثر ہوئی اور توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس کے اثرات جموں و کشمیر تک بھی پہنچے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات، ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں ممکنہ اضافہ، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ اور مقامی معیشت پر پڑنے والے اثرات عوامی سطح پر موضوعِ گفتگو رہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان مسائل پر نہ تو خاطر خواہ رپورٹس سامنے آئیں اور نہ ہی ان پر سنجیدہ عوامی مباحثے ہوئے۔ اگر کہیں گفتگو ہوئی بھی تو وہ بڑی حد تک بین الاقوامی سیاست، فوجی حکمت عملیوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات تک محدود رہی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت کو اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سیاست کی رپورٹنگ یقیناً ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ جاننا ہے کہ ان عالمی واقعات کا اثر ایک عام شہری کی زندگی پر کیا پڑ رہا ہے۔ اگر تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر ایک ٹیکسی ڈرائیور پر کیا ہوگا؟ اگر عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے تو کشمیر کے لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ اگر کسی بین الاقوامی بحران سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے تو مقامی منڈیوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو صحافت کو عوام کے قریب لے جاتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں صحافت کے ایک حصے نے مقبولیت، ناظرین کی تعداد اور سوشل میڈیا کی رسائی کو معیارِ کامیابی بنا لیا ہے۔ نتیجتاً ایسے موضوعات اور شخصیات کو ترجیح دی جاتی ہے جو زیادہ توجہ حاصل کر سکیں۔ سیاست دانوں کے بیانات، سیاسی تنازعات اور بااثر شخصیات کے انٹرویوز فوری طور پر ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، لیکن اس دوڑ میں عوامی مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اگر صحافت صرف طاقتور لوگوں کے خیالات اور بیانیوں کو فروغ دینے تک محدود ہو جائے تو وہ اپنی اصل روح سے دور ہو جاتی ہے۔ ایسی صحافت عوامی خدمت سے زیادہ تعلقاتِ عامہ یا پبلک ریلیشنز کا تاثر دیتی ہے۔ صحافت اور پی آر کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ صحافت سوال کرتی ہے، احتساب کرتی ہے اور کمزور طبقات کی آواز بنتی ہے، جبکہ پی آر کسی فرد، ادارے یا طبقے کے موقف کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔
کشمیر جیسے خطے میں جہاں عوام کو روزمرہ زندگی میں بے شمار معاشی، سماجی اور بنیادی مسائل کا سامنا ہے، وہاں صحافت کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سڑکوں کی حالت، پانی کی فراہمی، بجلی کے مسائل، صحت اور تعلیم کی سہولتیں، بے روزگاری، منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت، ماحولیاتی چیلنجز اور کاروباری مشکلات ایسے موضوعات ہیں جنہیں مسلسل میڈیا کی توجہ درکار ہے۔ یہی مسائل عام لوگوں کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں اور یہی وہ موضوعات ہیں جن پر صحافت کو سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
یہ کہنا ہرگز درست نہیں ہوگا کہ سیاست دانوں یا بااثر شخصیات کے انٹرویوز غیر ضروری ہیں۔ یقیناً ان کے خیالات اور پالیسیوں کو عوام تک پہنچانا بھی صحافت کا حصہ ہے۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب صحافت کا پورا منظرنامہ انہی شخصیات کے گرد گھومنے لگے اور عوامی مسائل حاشیے پر چلے جائیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ صحافی اور میڈیا ادارے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ پوڈ کاسٹ اسٹوڈیوز کے دروازے صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں بلکہ کسانوں، اساتذہ، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین، تاجروں اور عام شہریوں کے لیے بھی کھلنے چاہئیں۔ صحافت کو دوبارہ عوام کے درمیان جانا ہوگا، ان کی مشکلات سننی ہوں گی اور ان کی نمائندگی کرنی ہوگی۔
کیونکہ آخرکار صحافت کی اصل طاقت اقتدار کے ایوانوں تک رسائی میں نہیں بلکہ ان لوگوں کی آواز بننے میں ہے جن کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ جب میڈیا عام آدمی کے دکھ درد، امیدوں اور مسائل کو اپنی ترجیح بناتا ہے تو وہ صحافت کہلاتی ہے، اور جب وہ صرف طاقتوروں کی تشہیر کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نام کچھ اور ہو سکتا ہے، صحافت نہیں۔





