اسلام آباپاکستان دہشت گردوں کو پناہ، تربیت اور معاونت فراہم کرتا ہے‘دہلی کا اسلام آباد پر الزام
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹جون
بھارت نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’’فرینکنسٹائن ریاست‘‘ قرار دیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا، تربیت فراہم کرتا اور انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ ریمارکس اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کی فرسٹ سیکریٹری انوپما سنگھ نے انسانی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کی سالانہ رپورٹ پر ہونے والے انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران دیے۔ اس موقع پر پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا۔
انوپما سنگھ نے کہا کہ ’’پاکستان اور او آئی سی کی جانب سے بھارت کے حوالے سے دیے گئے بیانات کے جواب میں ہمیں وضاحت پیش کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ہم پاکستان کی جانب سے عائد کیے گئے بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘‘
بھارتی مندوب نے او آئی سی کی جانب سے جموں و کشمیر کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریکارڈ کے لیے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ واحد حل طلب مسئلہ پاکستان کے زیرِ قبضہ بھارتی علاقوں کی واپسی ہے۔‘‘
سنگھ نے مزید کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کا موجودہ وزیرِ دفاع خود دہشت گردوں کو پناہ دینے، تربیت دینے اور استعمال کرنے کو ریاستی پالیسی کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’یہ کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونا چاہیے۔ ایک غیر قانونی اور غیر جائز قبضہ صرف طاقت کے بل پر ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘‘
بھارتی مندوب نے مزید کہا کہ ’’پاکستان خود کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دیتا ہے، حالانکہ اس کے رہنما دہشت گردوں کی سرپرستی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جسے صرف پاکستان ہی برقرار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان ایک زندہ مثال ہے ایسی فرینکنسٹائن ریاست کی جو اس وقت حیران رہ جاتی ہے جب اس کا اپنا پیدا کیا ہوا عفریت اسی کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘
سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنیادی آزادیوں کی عدم فراہمی کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ روٹی، بجلی، حقوق اور وقار کے مطالبات کا جواب بھی گولیوں اور تشدد سے دیا جا رہا ہے۔
بھارتی مندوب نے سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’’فرسودہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا موقف اس معاہدے کے بارے میں پہلے ہی واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسا ملک جو دہشت گردی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنائے ہوئے ہو، وہ خیرسگالی اور دوستی کی بنیاد پر قائم تعاون کے فوائد کا مطالبہ بھی کرے۔‘‘
واضح رہے کہ اپریل۲۰۲۵ میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں۲۶ شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا۔
انوپما سنگھ نے کہا کہ۱۹۶۰ میں طے پانے والے معاہدے کو ابدی حق کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، خاص طور پر جب گزشتہ چھ دہائیوں میں حالات اور حقائق میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہو۔
سندھ طاس معاہدہ، جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا‘۱۹۶۰ سے دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کو منظم کر رہا ہے۔انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ ’’پاکستان اگر بھارتی علاقوں پر نظریں جمانے کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل اور اپنے عوام کی فلاح پر توجہ دے تو یہ اس کے اپنے مفاد میں ہوگا۔‘‘










