چارج شیٹ دائر‘ این او سی جاری کرنے کے عوض رشوت لینے کا الزام
ایجنسیز
جموں؍۱۹ جون
جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈائریکٹوریٹ نے اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی جانب سے گرفتاری کے بعد اپنے چار اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔
ڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز آلوک کمار کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم نامے کے مطابق معطل کیے گئے اہلکاروں میں لیڈنگ فائر مین فاروق احمد وانی اور فائر مین محمد عبد القیوم، فیروز احمد یاتو اور شمیم احمد ڈار شامل ہیں۔
یہ کارروائی پولیس اسٹیشن اے سی بی سنٹرل جموں میں درج ایف آئی آر نمبر۰۱/۲۰۲۵ کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی گرفتاریوں کے بعد کی گئی ہے۔
دریں اثنا، اینٹی کرپشن بیورو جموں و کشمیر نے جمعہ کے روز فائر سیفٹی ’’نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ‘‘ (این او سی) جاری کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے عوض رشوت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزام میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک اہلکار کے خلاف بارہمولہ کی خصوصی انسدادِ بدعنوانی عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ چارج شیٹ نسار احمد وانی، اُس وقت کے سینئر فائر مین تعینات فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز سوپور، کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر نمبر۱۶/۲۰۲۴ کے تحت پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ۱۹۸۸ کی دفعہ۷ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ۱۶ دسمبر۲۰۲۴کو بارہمولہ کے ایک رہائشی کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم نے ضلع کے جنباز پورہ علاقے میں لکڑی کی فروخت کے ڈپو کے قیام کے لیے درکار فائر سیفٹی این او سی جاری کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کے عوض رشوت طلب کی تھی۔
شکایت گزار کے مطابق ملزم نے ابتدائی طور پر درخواست سے متعلق اخراجات کے نام پر۱۵۰۰روپے وصول کیے اور بعد میں ایندھن اور دیگر اخراجات کا بہانہ بنا کر مزید۵۰۰۰ روپے رشوت طلب کیے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے خفیہ جانچ کی جس میں الزامات بادی النظر میں درست پائے گئے۔ اس کے بعد باقاعدہ مقدمہ درج کر کے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے کامیاب جال بچھایا۔
۱۶دسمبر۲۰۲۴ کو کی گئی کارروائی کے دوران ملزم کو مبینہ طور پر شکایت گزار سے رشوت کی رقم طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ رشوت کی رقم آزاد گواہوں کی موجودگی میں اس کے قبضے سے برآمد کی گئی۔
اے سی بی کے مطابق سری نگر کی فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی جانچ میں ملزم کے ہاتھ دھونے اور جیب دھونے کے نمونوں میں فینولفتھالین اور سوڈیم کاربونیٹ کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس سے رشوت ستانی کے الزامات کو تقویت ملی۔
قانونی کارروائی کے تحت گرفتاری کے بعد ملزم کو بعد ازاں مجاز عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ۱۹کے تحت استغاثہ کی منظوری مجاز اتھارٹی سے حاصل کی گئی، جس کے بعد چارج شیٹ خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی عدالت، بارہمولہ میں پیش کر دی گئی۔
اینٹی کرپشن بیورو نے بدعنوانی کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی کے واقعات کی اطلاع متعلقہ ذرائع کے ذریعے دیں تاکہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔










