بھارت کا عالمی برادری سے پاکستان کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ‘پولیس کارروائی میں ۳۰ مظاہرین ہلاک ‘متعدد زخمی
اگرچہ مذاکرات ضروری ہیں، لیکن جب تک خطے کے عوام سیاسی طور پر محروم رہیں گے‘ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں:پی ایچ آر سی
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۹جون
بھارت نے منگل کے روز پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں مظاہرین کے خلاف پاکستان کی سخت کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکتوں کی اطلاعات پر ردِعمل دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں شدید پولیس بربریت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں متعدد مظاہرین ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
بھارت نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری پاکستان کو اس کی بداعمالیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے گی۔‘‘
بھارت کا یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان نے پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں۳۰سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم۲۰۰زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، ’’یہ پاکستان کی اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک بے چین کوشش ہے۔‘‘
پی او کے میں یہ جھڑپیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی(جے اے اے سی )کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مظاہروں سے ایک دن قبل ہوئیں۔ کمیٹی نے۲۷ جولائی کو ہونے والے قانون ساز ادارے کے انتخابات میں۴۵ نشستوں میں سے۱۲ نشستیں مہاجرین کے لیے مختص کیے جانے کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔
گروپ اس سے قبل ہونے والے پرتشدد واقعات، انٹرنیٹ بندش، تنظیم پر پابندی، بجلی کی قلت، مہنگائی، بے روزگاری، وسائل کے مبینہ استحصال اور سیاسی محرومی جیسے مسائل کے خلاف بھی احتجاج کر رہا تھا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پی او کے کی ایک نمایاں سول سوسائٹی اتحاد ہے، جو خطے میں معاشی اور سیاسی مسائل کے خلاف احتجاجی تحریکوں کی قیادت کرتی رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے حکام نے امن و امان اور سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جے اے اے سی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اتوار کے روز راولاکوٹ شہر میں اس وقت جھڑپیں پھوٹ پڑیں جب ایک تاجر کی ہلاکت پر کشیدگی بڑھ گئی، جسے مبینہ طور پر جمعہ کی رات قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے دوران گولی مار دی گئی تھی۔
جے اے اے سی کے اراکین نے اپنی تنظیم کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیے جانے کو ’’جبر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن(پی ایچ آر سی) نے بھی نام نہاد علاقائی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پیر کے روز جاری ایک بیان میں کمیشن نے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتوں اور مواصلاتی بندشوں کی سخت مذمت کی۔
کمیشن نے کہا، ’’اگرچہ مذاکرات ضروری ہیں، لیکن جب تک خطے کے عوام سیاسی طور پر محروم رہیں گے، اس وقت تک بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے اور عوامی شکایات کو شفاف انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔‘‘










