جموں و کشمیر کے عوام کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ جن سیاسی جماعتوں پر انہوں نے بارہا اعتماد کیا، انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا اور اپنے مستقبل کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں دی، وہ جماعتیں اکثر عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہیں۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ان جماعتوں کو طاقت بخشی، لیکن بدلے میں انہیں نہ وہ سیاسی استحکام ملا جس کے وہ مستحق تھے، نہ ان کے حقوق اور مفادات کو وہ تحفظ فراہم کیا گیا جس کا وعدہ کیا جاتا رہا۔ اس کے برعکس اکثر یہ تاثر پیدا ہوا کہ سیاسی جماعتوں نے عوامی مفادات کو اپنے سیاسی مفادات کے تابع کر دیا اور اہم عوامی مسائل کو باہمی رقابتوں کی نذر کر دیا۔
ریاستی درجے کی بحالی ایسا بنیادی معاملہ ہے جس پر تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگے تھے۔ نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مختلف انداز میں انہی مطالبات کو اپنی انتخابی مہم کا محور بنایا تھا۔ عوام نے بھی ان وعدوں پر یقین کرتے ہوئے ووٹ دیے تھے۔ لیکن آج جب ان مطالبات کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے تو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور ماضی کے حساب کتاب میں مصروف نظر آتی ہیں۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے ریاستی درجے کی بحالی اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی اپیل کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کسی ایک جماعت یا ایک لیڈر کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے۔ اس لیے فطری طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ اس اپیل کا خیر مقدم کیا جائے گا اور تمام سیاسی جماعتیں کم از کم اس حد تک اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی کہ عوامی مفادات کے لیے متحدہ آواز بلند کی جا سکے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی لفظی جنگ نے اصل مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ ملاقات کی درخواست، خط کے عوامی ہونے اور سیاسی نیتوں پر سوالات نے اس بنیادی سوال کو تقریباً فراموش کر دیا کہ آخر جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی مفادات کے لیے مشترکہ حکمت عملی کب اور کیسے تشکیل پائے گی۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض دیگر سیاسی رہنما بھی اسی بحث میں کود پڑے اور پی ڈی پی کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دینے لگے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت جموں و کشمیر کو الزام تراشی کی سیاست کی ضرورت ہے یا اجتماعی سوچ اور مشترکہ حکمت عملی کی؟ کیا عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی ماضی کی غلطیوں کی فہرست مرتب کریں یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی راستہ نکالا جائے؟
حقیقت یہ ہے کہ اگر ماضی کا احتساب شروع کیا جائے تو کوئی بھی سیاسی جماعت خود کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ پی ڈی پی نے غلطیاں کی ہوں گی، لیکن کیا نیشنل کانفرنس کا دامن بھی ہر قسم کی سیاسی غلطی سے پاک ہے؟ کیا گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایسے فیصلے نہیں ہوئے جن کے نتائج آج تک جموں و کشمیر کے عوام بھگت رہے ہیں؟ کیا کانگریس یا دیگر جماعتیں بھی ہر قسم کی سیاسی لغزش سے مبرا ہیں؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔
سیاسی تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف جماعتوں سے غلطیاں سرزد ہوئیں اور ان غلطیوں کا خمیازہ بالآخر عوام کو بھگتنا پڑا۔ لیکن سیاسی بلوغت کا تقاضا یہ نہیں کہ انہی غلطیوں کو بار بار دہرا کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جائے۔ بالغ جمہوریتوں میں سیاسی قوتیں ماضی سے سبق حاصل کرتی ہیں، اس میں قید نہیں ہو جاتیں۔
جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں ماضی کی تلخیوں اور باہمی بداعتمادی سے اوپر اٹھ کر مستقبل کی طرف دیکھیں۔ اگر ریاستی درجے کی بحالی واقعی ایک مشترکہ مقصد ہے، اگر آئینی حقوق کے تحفظ پر سب متفق ہیں اور اگر عوامی مفادات سب کی ترجیح ہیں تو پھر ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام میں ہچکچاہٹ کیوں؟
اس حوالے سے لداخ کی مثال نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔ لداخ میں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں نے اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات کے لیے ایک متحدہ آواز بلند کی۔ لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات موجود تھے، لیکن جب بات خطے کے حقوق، شناخت اور مستقبل کی آئی تو انہوں نے ایک مشترکہ موقف اختیار کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی آواز نہ صرف منظم انداز میں سامنے آئی بلکہ مرکز کو بھی اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی پڑی۔
جموں و کشمیر میں بھی اسی طرز پر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد کسی جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچانا یا کسی رہنما کو کریڈٹ دلانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ صرف اور صرف عوامی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ریاستی درجے کی بحالی، زمین اور روزگار کے حقوق، آئینی ضمانتوں اور جمہوری اختیارات جیسے معاملات پر مشترکہ موقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ عوام اب محض بیانات اور الزامات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ عوام نتائج چاہتے ہیں۔ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جن مسائل کو سیاسی جماعتیں انتخابی جلسوں میں اٹھاتی ہیں، ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اختلافات سے اوپر نہیں اٹھ سکتی تو اس سے عوام میں مزید مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہوگی۔
آج جموں و کشمیر ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو ماضی کی تلخیوں، سیاسی انتقام اور الزام تراشی کی سیاست کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو مفاہمت، اتفاق رائے اور مشترکہ جدوجہد کی طرف لے جاتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔
وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں عوامی مفادات کو اپنی جماعتی سیاست پر ترجیح دیں۔ اگر لداخ کے سیاسی و سماجی حلقے اپنے اختلافات کے باوجود متحد ہو سکتے ہیں تو جموں و کشمیر کی جماعتیں بھی ایسا کر سکتی ہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو تاریخ کے حوالے کر کے مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینا ہی آج کی سب سے بڑی سیاسی ضرورت ہے۔
عوام یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ ماضی میں کس نے کیا غلطی کی تھی؛ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آج ان کے حقوق اور مستقبل کے لیے کون متحد ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی وہ امتحان ہے جس میں جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کو کامیاب ہونا ہوگا، کیونکہ آنے والی نسلیں ماضی کے جھگڑوں سے نہیں بلکہ آج کیے گئے فیصلوں سے اپنا مستقبل تعمیر کریں گی۔





