ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-30
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

عید الاضحیٰ مسلمانوں کیلئے ایک تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی اور اطاعتِ الٰہی کا عظیم درس ہے۔ اس دن دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتے ہوئے سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے مسلم اکثریتی خطے میں بھی عید الاضحیٰ مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے ایک مسئلہ مسلسل عوام کی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے اور وہ ہے قربانی کے جانوروں کی آسمان چھوتی قیمتیں، جن پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اور منظم کوشش دکھائی نہیں دیتی۔

امسال بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قیمتوں نے عام لوگوں کو سخت تشویش میں مبتلا رکھا۔ وادی کے مختلف علاقوں میں قربانی کے جانور فروخت کرنے والوں نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کیے۔ ایک ہی نسل، ایک ہی جسامت اور تقریباً ایک ہی وزن کے جانوروں کی قیمتوں میں ہزاروں  روپے کا فرق دیکھا گیا۔ خریدار حیران و پریشان تھے کہ آخر قیمت کا تعین کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے اور اس بے ضابطگی کو روکنے والا کوئی ادارہ موجود کیوں نہیں ہے۔

متعلقہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

یہ صورتحال کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر سال عید الاضحیٰ سے قبل یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ عوام شکایت کرتے ہیں،   سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھتی ہیں، مگر جیسے ہی عید گزر جاتی ہے، یہ مسئلہ بھی سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً اگلے سال پھر وہی مسائل اور وہی شکایات سامنے آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر حکومت اس معاملے میں مسلسل خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟

کسی بھی مہذب اور ذمہ دار نظامِ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو ضروری اشیاء اور خدمات کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنائے۔ جب حکومت سبزیوں، پھلوں، اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں کی نگرانی کر سکتی ہے تو پھر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کو مکمل طور پر بے لگام کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ خاص طور پر اس وقت جبکہ یہ معاملہ لاکھوں لوگوں کے مذہبی فریضے سے جڑا ہوا ہو۔

امسال یہ بات زیادہ شدت سے محسوس کی گئی کہ حکومت نے جانوروں کی منڈیوں کی نگرانی میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ بیرونِ وادی سے آئے ہوئے تاجروں نے مختلف مقامات پر اپنے اسٹال قائم کیے، خود ہی قیمتوں کا تعین کیا اور اپنی شرائط نافذ کیں۔ خریداروں کے پاس نہ تو کسی قسم کی رہنمائی موجود تھی اور نہ ہی شکایت درج کرانے کا کوئی مؤثر نظام۔ انتظامیہ کا کوئی نمائندہ، کوئی محکمہ یا کوئی ایسا ادارہ نظر نہیں آیا جو قیمتوں اور خرید و فروخت کے طریقہ کار کی نگرانی کرتا۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ جانوروں کے وزن اور معیار کے تعین کا بھی کوئی منصفانہ نظام موجود نہیں تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں قربانی کے جانور وزن کے مطابق فروخت کیے جاتے ہیں اور خریدار کو واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ جانور کا وزن کیا ہے اور فی کلو قیمت کتنی ہے۔ اس کے برعکس یہاں اکثر خرید و فروخت اندازوں، دعوؤں اور سودے بازی پر منحصر ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں عام خریدار ہمیشہ کمزور فریق ثابت ہوتا ہے جبکہ فروخت کنندگان کو کھلی چھوٹ حاصل رہتی ہے۔

اس بے ضابطگی کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے ہزاروں خاندان ہیں جو پورا سال بچت کرتے ہیں تاکہ عید الاضحیٰ پر قربانی کی سعادت حاصل کر سکیں۔ لیکن جب جانوروں کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہیں تو ان کے لیے قربانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سال بھی متعدد افراد نے کھل کر اعتراف کیا کہ وہ جانور خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور مجبوری کے باعث قربانی سے محروم رہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ انتظامی ناکامی کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قربانی کے جانور محض ایک تجارتی شے نہیں بلکہ ایک مذہبی ضرورت ہیں۔ جس طرح حکومت رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں پر نظر رکھتی ہے، اسی طرح عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی دستیابی اور مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ پالیسی سازی کی ضرورت ہے تاکہ ہر سال پیدا ہونے والے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

انتظامیہ کو چاہیے کہ عید الاضحیٰ سے قبل مختلف اضلاع میں سرکاری نگرانی میں منڈیاں قائم کرے۔ ان منڈیوں میں جانوروں کی صحت، وزن اور معیار کی جانچ کا انتظام ہو۔ قیمتوں کے تعین کے لیے واضح رہنما اصول مرتب کیے جائیں اور ہر جانور کا وزن عوام کے سامنے ظاہر کیا جائے۔ اس کے علاوہ صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک اور کنٹرول روم بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔

ایک اور قابل غور تجویز یہ ہے کہ حکومت یا اس کے ماتحت ادارے براہِ راست جانوروں کی فراہمی کا انتظام کریں۔ ملک کے مختلف حصوں سے جانور خرید کر سرکاری منڈیوں میں مناسب نرخوں پر فروخت کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ کام آسان نہیں، لیکن عوامی مفاد اور مذہبی ضرورت کے پیش نظر اس امکان پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ نجی تاجروں کی اجارہ داری بھی کم ہوگی۔

حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ محکمہ حیوانات، صارفین کے تحفظ کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرے تاکہ ایک مربوط نظام وجود میں آ سکے۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آن لائن رجسٹریشن، وزن کی ڈیجیٹل تصدیق اور نرخوں کی نگرانی جیسے اقدامات بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

عید الاضحیٰ خوشی، ایثار اور عبادت کا موقع ہے۔ یہ ہرگز مناسب نہیں کہ لوگ جانوروں کی خریداری کے دوران استحصال، بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہوں۔ اگر حکومت واقعی عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے اس مسئلے کو محض ایک موسمی شکایت سمجھنے کے بجائے ایک اہم عوامی اور مذہبی معاملہ تصور کرنا ہوگا۔ قربانی کے جانوروں کی منڈیوں میں شفافیت، منصفانہ قیمتوں اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ورنہ ہر سال عید کے موقع پر یہی سوال گونجتا رہے گا کہ آخر حکومت کی موجودگی میں عوام کو لوٹنے اور ٹھگنے کی کھلی چھوٹ کیوں حاصل ہے، اور ریاست اپنے شہریوں کے ایک بنیادی مذہبی فریضے کی ادائیگی کو آسان بنانے کے بجائے خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام بھی چاہتے ہیں اور حالات بھی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’بی ایس ایف کے دائرۂ کار میں توسیع پر غور‘

Next Post

 …. ایک اور بات !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

وادی میں نجی طبی مراکز: نگرانی کہاں ہے؟

2026-07-05
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

 .... ایک اور بات !

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.