اودھم پور میں منشیات فروش کی غیر قانونی تجارتی عمارت منہدم
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۲مئی
منشیات کی اسمگلنگ اور اس سے جڑی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف اپنی مسلسل کارروائی جاری رکھتے ہوئے کپوارہ پولیس نے آج این ڈی پی ایس ایکٹ۱۹۸۵کے تحت امرواہی ٹاڈ کرناہ کے دو رہائشی مکانات ضبط کر لیے۔
یہ مکانات ظہیر احمد تونچ ولد علیم دین تونچ ساکن امرواہی کرناہ اور بشیر احمد تونچ ولد سلیمان تونچ ساکن امرواہی کرناہ کی ملکیت تھے۔ دونوں ملزمان ایک ایف آئی آر زیر دفعات۸/۲۱؍این ڈی پی ایس ایکٹ میں ملوث ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ رہائشی مکانات منشیات کی غیر قانونی خرید و فروخت سے حاصل شدہ آمدنی سے تعمیر شدہ قرار دیے گئے۔ مجاز اتھارٹی کی ہدایات اور تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد سروے نمبر۱۴۶ من اور۱۳۶۱/۲۹۵ من پر واقع ان مکانات کو باضابطہ طور پر ضبط کر لیا گیا۔
پولیس نے ان مقامات پر عوامی نوٹس بھی چسپاں کیے ہیں، جن میں عام لوگوں کو مطلع کیا گیا ہے کہ یہ جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں اور مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ان کی فروخت، منتقلی، لیز یا کسی تیسرے فریق کا مفاد قائم نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کارروائی ضلع پولیس کپوارہ کے اس عزم کی عکاس ہے کہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ کیا جائے گا اور منشیات کی اسمگلنگ و دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر بارہمولہ پولیس نے بھی منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش زاہد احمد میر ولد غلام حسن میر ساکن چیکتھن چنپورہ، ٹنگمرگ کی رہائشی جائیداد این ڈی پی ایس کی ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت ضبط کر لی۔
ضبط شدہ جائیداد کی مالیت تقریباً۳۰لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔
یہ کارروائی ملزم کے خلاف درج متعدد این ڈی پی ایس مقدمات کی تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی، جن میں ایف آئی آر نمبر۳۷/۲۰۱۷ زیر دفعہ۸/۲۰؍این ڈی پی ایس ایکٹ، ایف آئی آر نمبر۳۴/۲۰۲۵زیر دفعات۸/۲۱تا۲۹؍این ڈی پی ایس ایکٹ اور ایف آئی آر۰۷/۲۰۲۶ زیر دفعات۸/۲۱تا ۲۹؍این ڈی پی ایس ایکٹ شامل ہیں، جو پولیس اسٹیشن ٹنگمرگ میں درج ہیں۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے پایا کہ مذکورہ جائیداد ملزم کی معلوم قانونی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے اور شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی سے خریدی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ضبطی کی کارروائی ریونیو ریکارڈ، آمدنی کی تفصیلات، مقامی گواہوں کے بیانات اور بینک لین دین کے ریکارڈ کے تفصیلی جائزے کے بعد شروع کی گئی، جن سے بظاہر ملزم کی ظاہر کردہ آمدنی کے مقابلے میں غیر متناسب مالی لین دین کا انکشاف ہوا۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا ہے کہ وہ منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر قائم ہے اور معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
اس دوران پولیس اور سول انتظامیہ نے جموں و کشمیر کے ضلع اودھم پور میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک مبینہ منشیات فروش کی ’’غیر قانونی‘‘ تجارتی جائیداد کو منہدم کر دیا۔ حکام نے یہ جانکاری دی۔
یہ کارروائی سمرولی علاقے میں جموں-سری نگر قومی شاہراہ پر دیوال پل کے نزدیک سرکاری اراضی پر مبینہ طور تعمیر کی گئی دکانوں کے خلاف انجام دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ جائیداد تریلوچن دت کی ملکیت تھی، جو مبینہ طور متعدد منشیات اسمگلنگ مقدمات میں ملوث رہا ہے اور اس نے سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تجارتی ڈھانچے تعمیر کیے تھے۔
افسران نے بتایا کہ یہ انہدامی کارروائی ضلع انتظامیہ اور اودھم پور پولیس نے مشترکہ طور پر محکمہ مال کی جانب سے جاری کردہ بے دخلی حکم کے بعد انجام دی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سب ڈویژنل پولیس آفیسر (ایس ڈی پی او) چنینی، ڈی ایس پی سکھویر سنگھ نے کہا کہ تقریباً۱۰لاکھ روپے مالیت کی یہ جائیداد ایسے شخص کی تھی جس کا نام بار بار منشیات فروشی کی سرگرمیوں میں سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں کئی مرتبہ اس کے خلاف منشیات فروشی میں ملوث ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ آج کی کارروائی کے ذریعے ہم واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کسی بھی منشیات فروش کو غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل یا تعمیر کردہ جائیداد سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پولیس اور سول انتظامیہ منشیات اسمگلروں سے وابستہ غیر قانونی اثاثوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور تعمیر شدہ جائیدادوں کو لینڈ ریونیو ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ہٹایا جا رہا ہے جبکہ دیگر اثاثے قانونی دفعات کے تحت ضبط کیے جا رہے ہیں۔
افسر کے مطابق تریلوچن دت کے خلاف چنینی پولیس اسٹیشن میں پہلے ہی ایک ایف آئی آر درج کی جا چکی تھی، جو منشیات اسمگلنگ میں مبینہ ملوث ہونے کی اطلاعات کی بنیاد پر درج ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تحصیلدار کے ذریعے سول انتظامیہ نے حال ہی میں تجاوز شدہ جائیداد کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد مشترکہ انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ضلع میں منشیات اسمگلنگ اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف انتظامیہ کی وسیع مہم کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔










