ہم کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے …….بار بار کہتے رہیں گے کہ ……. کہ سیاستدانوں سے بہتر کوئی اداکار نہیں ہے ‘ نہیں ہو سکتا ہے ……. بالی ووڈ کیا ، ہالی ووڈ میں بھی آپ کسی کو نہیں پائیں گے جو سیاستدانوں ……. خاص کر اپنے کشمیر کے سیاستدانوں جیسا منجھا ہوا ادار کار ہو ……. نہیں صاحب آپ لاکھ کوششیں کریں ‘ کامیابی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گی ‘ بالکل بھی نہیں آئےگی ۔یوں تو ہمیں کشمیر کے سیاستدانوں کی اداکاری کے جوہر اسمبلی اجلاس کے دوران دیکھنا نصیب ہو تے ہیں ‘ لیکن آجکل اسمبلی کے باہر بھی ہم دیکھ رہے ہیں ……. یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیسے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لیڈر دودھ کے دھلے بننے کی ادا کاری کررہے ہیں جب کہ صاحب ہم اور آپ جانتے ہیں اور ……. اور ہاں مانتے بھی ہیں کہ اس حمام میں سب کے سب………………… ہاں سمجھ گئے نا آپ ۔این سی ہویا پی ڈی پی ‘دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور……. اور اس میں کوئی شک نہیں ہے …….یقینا ًجب یہ اقتدار میں نہیں ہوتی ہیں تو ……. تو ان میں قطبین کا فرق ہمیں نظر آتا ہے ……. لیکن صاحب جب بھی اقتدار انہیں ہاتھ آتا ہے تو اللہ میاںکی قسم ان کا طرز عمل اور طرز حکمرانی ایک جیسا ہو تا ہے …….اس میں مماثلت ہو تی ہے ……. اتنی مماثلت کہ یہ فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ حکومت این سی کی ہے یا پی ڈی پی کی ۔ پی ڈی پی یقینا ً آجکل این سی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں لیکن جب یہ خود اقتدار میں ہو تی ہے تو ……. تو پھر کیا ہو تا ہے …….وہ سب کچھ ہو تا ہے جو این سی کے دور اقتدار میں بھی ہو تا ہے …….اس لئے صاحب آج جب دونوں پارٹیوں کے لیڈر ایک دوسرے پر چلا رہے ہیں ‘ چیخ رہے ہیں یا چلانے اور چیخنے کی ایکٹنگ کررہے ہیں تو ……. تو اللہ میاں کی قسم یہ سب ہمارے حلق سے نیچا نہیں اتر رہا ہے اور ……. اور اس لئے نہیں اتر رہا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں کہ یہ ان کی محض اداکاری ہے اور کچھ نہیں …….ہاں کوئی انہیں بتا دے ‘ دونوں کو بتا دے کہ اب ان کی اس ایکٹنگ ‘ ان کی اس اداکاری کی عمر ہو گئی ہے ‘ یہ زائد المیعاد ہو گئی ہے اس لئے لوگوں کو احمق بنانے کیلئے انہیں کچھ اور سوچنا ہو گا اور ……. اور دونوں کو سوچنا ہو گا ۔ ہے نا؟




