ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

خواتین کی ڈرگ سمگلنگ میں شمولیت!

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-06
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

کشمیر میں منشیات کے خلاف جاری مہم کے دوران اننت ناگ میں ایک خاتون ڈرگ سمگلر کی گرفتاری نے ایک ایسا پہلو اجاگر کیا ہے جو محض تشویش ناک نہیں بلکہ نہایت خطرناک اور تباہ کن ہے۔

منشیات کا پھیلاؤ یقیناً ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے، مگر جب اس مکروہ دھندے میں خواتین کی شمولیت سامنے آتی ہے تو یہ معاملہ محض قانون شکنی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کیلئے ایک سنگین چیلنج بن جاتا ہے۔

متعلقہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

خواتین کسی بھی معاشرے میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ماں، بہن اور بیٹی کے روپ میں نہ صرف خاندان کی تربیت کرتی ہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی خواتین اگر اپنے ہی ہاتھوں سے نوجوان نسل کو زہر آلود کرنے کے عمل میں شریک ہو جائیں تو پھر اس قوم کے مستقبل کے بارے میں کوئی خوش فہمی باقی نہیں رہتی۔ ایسے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جب محافظ ہی نقصان پہنچانے لگیں تو تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔

اننت ناگ میں ایک پردہ نشین خاتون کا منشیات فروشی میں ملوث پایا جانا ایک علامتی واقعہ نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ منشیات کا نیٹ ورک اب اتنا پھیل چکا ہے کہ اس نے معاشرے کے ان طبقات تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے جنہیں ہمیشہ اخلاقی استحکام اور کردار سازی کا ضامن سمجھا جاتا تھا۔ اس سے نہ صرف جرم کی نوعیت بدلتی ہے بلکہ اس کے اثرات بھی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

یہاں سوال صرف ایک خاتون یا چند افراد کا نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک رجحان اور ایک بگڑتی ہوئی ترجیحات کا ہے۔ جب مالی مفاد، اخلاقی اقدار پر غالب آ جائے اور ذاتی فائدے کیلئے پوری قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا جائے، تو پھر یہ محض جرم نہیں بلکہ اجتماعی خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ کہ بیرونی عناصر کشمیر میں منشیات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس کاروبار کو فروغ دینے کیلئے اندرونی سطح پر ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی ہی قوم کے دشمن بن چکے ہیں۔ جب اس فہرست میں خواتین کے نام شامل ہوتے ہیں تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے، کیونکہ خواتین کا کردار صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

کشمیر جیسے حساس اور ثقافتی لحاظ سے مضبوط معاشرے میں خواتین کی اس طرح کی سرگرمیوں میں شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ ہماری سماجی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں ہمیں رک کر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں۔ کیا ہم اپنی نئی نسل کو وہ اخلاقی بنیادیں فراہم کر پا رہے ہیں جو انہیں ایسے راستوں سے دور رکھ سکیں؟

پولیس اور انتظامیہ کی کارروائیاں اپنی جگہ اہم اور قابلِ تحسین ہیں۔ گرفتاریاں، چھاپے اور نیٹ ورک کو توڑنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر اس مسئلے کا حل صرف قانونی کارروائیوں میں نہیں۔ جب تک معاشرہ خود اس کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا، تب تک یہ لعنت کسی نہ کسی شکل میں سر اٹھاتی رہے گی۔

خواتین کی شمولیت کو خاص طور پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے نہ صرف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے بلکہ سماجی سطح پر بھی اس کے خلاف ایک مضبوط بیانیہ قائم کیا جانا ضروری ہے۔ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ ایک سنگین اخلاقی جرم بھی ہے جو پوری قوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

والدین، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کو اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ کسی بھی غلط راستے کا انتخاب کریں۔ حقیقی بااختیاری وہ ہے جو معاشرے کی بہتری، ترقی اور مثبت تبدیلی کا سبب بنے، نہ کہ اس کی تباہی کا۔

اس کے ساتھ ساتھ، بحالی مراکز کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ منشیات کے عادی افراد کو مجرم سمجھنے کے بجائے مریض کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ انہیں علاج، مشاورت اور دوبارہ معاشرے میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ نئی زندگی کا آغاز کر سکیں۔

ایک اور اہم پہلو روزگار اور مثبت مصروفیات کا فقدان ہے۔ بے روزگاری اور مایوسی اکثر نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیلتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ روزگار کے مواقع بڑھائے، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز کو فروغ دے اور کھیل و ثقافتی سرگرمیوں کو تقویت دے تاکہ نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال کریں۔

آج کشمیر ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ترقی اور استحکام کی باتیں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف منشیات جیسی لعنت ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ ایسے میں خواتین کی اس دھندے میں شمولیت خطرے کی اس گھنٹی کو اور زیادہ تیز کر دیتی ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اگر ہم نے اس رجحان کو بروقت نہ روکا تو اس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں گے۔ ایک ایسی قوم جس کی خواتین ہی اس کے مستقبل کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہوں، اس کے بچنے کی امید کم ہی رہ جاتی ہے۔

لہٰذا، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف کھڑے ہوں—خاص طور پر اس پہلو پر توجہ دیتے ہوئے کہ خواتین کو اس راستے سے دور رکھا جائے۔ کیونکہ اگر یہ بنیاد ہی کمزور ہو گئی، تو پوری عمارت کا قائم رہنا ممکن نہیں۔

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’کوئی بھی منشیات اسمگلر نہیں بچے گا‘

Next Post

ہم کہاں جا رہے ہیں؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

تعلیمی اداروں میں قابلِ اعتراض لٹریچر

2026-07-09
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر آخر سبز کیوں نہیں؟

2026-07-08
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جَل جیون مشن:

2026-07-07
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

ہم کہاں جا رہے ہیں؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.