جموں و کشمیر کے لیے ۳۰ ؍اپریل ۲۰۲۶ محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک ایسے خواب کی تعبیر ہے جو برسوں تک محض تصور میں زندہ رہا۔ جموں سے سرینگر تک براہِ راست وندے بھارت ایکسپریس کا آغاز نہ صرف ایک بڑی سفری سہولت ہے بلکہ اس خطے کی سماجی، معاشی اور نفسیاتی کیفیت میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ جب ایک خطہ بہتر رابطوں سے جڑتا ہے تو صرف فاصلے کم نہیں ہوتے، بلکہ مواقع، امکانات اور امیدیں بھی قریب آتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں کشمیر کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ ایک مستقل چیلنج رہا۔ سرینگر-جموں قومی شاہراہ اکثر موسمی شدت، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند رہتی تھی، جس سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات پیش آتیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہوتی۔ ایسے میں ریل رابطے کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو نسبتاً زیادہ قابلِ بھروسہ، محفوظ اور ہر موسم میں فعال رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وندے بھارت ایکسپریس کا کٹرا سے سرینگر تک محدود رہنا ایک ادھورا قدم محسوس ہوتا تھا۔ اب جب اس سروس کو جموں تک توسیع دی جا رہی ہے تو اس سے ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو رہا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ سفر کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہو کر پانچ گھنٹوں سے کم رہ جائے گا۔ یہ کمی محض وقت کی بچت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی سکون بھی فراہم کرے گی، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو طویل اور غیر یقینی سڑک سفر سے گریز کرتے تھے۔
اس ٹرین کی ایک اور اہم خصوصیت اس کے کوچز کی تعداد میں اضافہ ہے، جو آٹھ سے بڑھا کر بیس کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ مسافر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے، اور رش کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔ جدید سہولیات، آرام دہ نشستیں اور بہتر حفاظتی نظام اس سفر کو نہ صرف تیز بلکہ خوشگوار بھی بنائیں گے۔ یوں یہ ٹرین محض ایک سفری ذریعہ نہیں بلکہ ایک جدید طرزِ زندگی کی عکاسی بھی ہے۔
سیاحت کے شعبے پر اس پیش رفت کے مثبت اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں۔ کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش وادیوں اور ثقافتی تنوع کی وجہ سے ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے، مگر مشکل رسائی اکثر اس کے راستے میں رکاوٹ بنتی تھی۔ اب جب جموں سے سرینگر تک براہِ راست اور تیز رفتار ریل سروس دستیاب ہوگی تو سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوگا، جس سے مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور دیگر متعلقہ شعبے اس کے براہِ راست فائدہ اٹھائیں گے۔
اسی طرح تجارت کے میدان میں بھی یہ قدم ایک نئی جہت متعارف کرائے گا۔ کشمیر کے تازہ پھل، سبزیاں اور دیگر زرعی مصنوعات اب کم وقت میں ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ سکیں گی۔ مال بردار ٹرینوں کی دستیابی نے پہلے ہی اس عمل کو آسان بنایا ہے، مگر مسافر ٹرین کے ساتھ مربوط نظام اسے مزید مؤثر بنائے گا۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک (USBRL) منصوبہ، جو گزشتہ برس قوم کے نام وقف کیا گیا، اس پوری پیش رفت کی بنیاد ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے بلکہ اس خطے کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید بھی ہے۔ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چیر کر بنائی گئی سرنگیں اور پل اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو جغرافیائی رکاوٹیں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔
تاہم، ہر ترقیاتی قدم کے ساتھ کچھ سوالات اور خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف افتتاحی تقاریب یا ابتدائی جوش و خروش پر نہیں بلکہ اس کے تسلسل، دیکھ بھال اور مؤثر انتظام پر ہے۔ ٹرین کے اوقات کار، کرایوں کی مناسب تعیین، اور سروس کے معیار کو برقرار رکھنا وہ عوامل ہیں جو اس سہولت کو عوام کے لیے واقعی مفید بنائیں گے۔ اگر ان پہلوؤں پر توجہ نہ دی گئی تو یہ عظیم منصوبہ بھی اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔
مزید برآں، مقامی آبادی کی شمولیت اور ان کے مفادات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ ترقی کا عمل اس وقت ہی پائیدار ہوتا ہے جب اس میں مقامی لوگوں کو شریک کیا جائے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی برقرار رہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جموں سے سرینگر تک براہِ راست ریل سروس کا آغاز ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔ یہ نہ صرف فاصلے کم کرے گا بلکہ دلوں کو بھی قریب لائے گا۔ ایسے اقدامات خطے میں اعتماد سازی، اقتصادی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔
آخر میں، یہ پیش رفت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ خواب اگر مستقل مزاجی اور منصوبہ بندی کے ساتھ دیکھے جائیں تو ایک دن حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے لیے یہ ٹرین محض ایک سفری سہولت نہیں بلکہ ایک امید، ایک وعدہ اور ایک روشن مستقبل کی علامت ہے۔





