’منصوبہ مکمل ہونے کے بعد۱۳کلومیٹر سے زائد طویل یہ ٹنل کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گی‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۴؍اپریل
سرینگر،لیہہ شاہراہ پر واقع اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل زوجیلا ٹنل ایک بڑے سنگِ میل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق مئی کے آخر تک کھدائی کا کام ’بریک تھرو‘ حاصل کر لے گا۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد۱۳کلومیٹر سے زائد طویل یہ ٹنل کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گی اور خطرناک زوجیلا پاس کے پار سال بھر آمدورفت ممکن بنائے گی۔
پروجیکٹ سے وابستہ حکام نے بتایا کہ اب صرف تقریباً۳۰۰ میٹر کھدائی باقی رہ گئی ہے اور کام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچرز لمیٹڈ کے جوائنٹ چیف آپریٹنگ آفیسر ہرپال سنگھ نے کہا’’زوجیلا ٹنل کی کل لمبائی۱۳ہزار۱۵۵میٹر ہے، جس میں سے صرف تقریباً۳۰۰میٹر کھدائی باقی ہے، اور اس طرح یہ منصوبہ ایک بڑے بریک تھرو سنگِ میل کے دہانے پر ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے تک بریک تھرو حاصل ہو جائے گا‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ یہ بریک تھرو اس وقت علامتی طور پر منایا جائے گا جب دونوں سروں—کشمیر کے بالتل اور دراس سیکٹر کے منی مرگ—سے کام کرنے والی ٹیمیں سرنگ کے اندر آپس میں ملیں گی۔
انہوں نے کہا’’بریک تھرو کے بعد بالتل اور منی مرگ کے لوگ سرنگ کے اندر ہاتھ ملائیں گے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور اس کے بعد کے کام کو مزید آسان بنا دے گا‘‘۔
دنیا کے مشکل ترین علاقوں میں تعمیر ہونے والی یہ ٹنل بھارت کی سب سے طویل روڈ ٹنل اور ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ ٹنل بننے جا رہی ہے۔ اس سے سونمرگ اور دراس کے درمیان سفر کا وقت تقریباً تین گھنٹوں سے کم ہو کر محض۱۵ منٹ رہ جائے گا۔
حکام کے مطابق کھدائی کا بریک تھرو۲۰۲۶کے وسط تک متوقع ہے، جبکہ منصوبے کی مکمل تکمیل کا ہدف فروری۲۰۲۸ رکھا گیا ہے۔
زوجیلا ٹنل کو غیر معمولی اسٹریٹیجک اور اقتصادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ لداخ کے لیے بلاتعطل رابطہ یقینی بنائے گی، جو ہر سال شدید برفباری کے باعث کئی مہینوں تک کٹ جاتا ہے۔ بہتر رسائی سے سیاحت، تجارت اور دفاعی لاجسٹکس کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
فی الحال زوجیلا راستے پر ٹریفک کا انحصار موسم پر ہوتا ہے، جہاں شدید برفباری اور بار بار لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سردیوں میں طویل بندشیں معمول ہیں۔
گزشتہ ماہ ایک برفانی تودہ زوجیلا پاس سے ٹکرا گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور کئی گاڑیاں برف اور ملبے تلے دب گئیں، جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ (ایجنسیاں)










