جموں و کشمیر کی جھیلیں محض قدرتی حسن کا مظہر نہیں بلکہ یہاں کی معیشت، تہذیب اور ماحولیاتی توازن کی بنیاد رہی ہیں۔ مگر آج یہی جھیلیں تیزی سے زوال کا شکار ہیں، اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ زوال کسی قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اپنی غفلت، کمزور حکمرانی اور بے لگام مفادات کا حاصل ہے۔
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل(سی اے جی ) کی تازہ رپورٹ نے ڈل جھیل کی بگڑتی حالت پر جو تصویر پیش کی ہے، وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ایک واضح وارننگ بھی ہے۔۲۰۰۷سے۲۰۲۰ کے درمیان جھیل کا رقبہ۱۵ء۴۰ مربع کلومیٹر سے گھٹ کر۱۲ء۹۱مربع کلومیٹر رہ گیا۔ یہ کمی محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک ایسے عمل کی نشاندہی ہے جو اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو ڈل جھیل کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟ جواب پیچیدہ نہیں۔ جھیل کے اندر اور اطراف میں زمین کے استعمال میں غیر منصوبہ بند تبدیلیاں، بڑھتی ہوئی تجاوزات، اور انسانی دباؤ نے اس کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ کھلے پانی کی جگہ اب فلوٹنگ گارڈنز، زرعی زمین اور تعمیرات نے لے لی ہے۔ یہ سب کچھ برسوں سے ہوتا رہا، مگر نہ کسی نے سنجیدگی سے روکا، نہ اس کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔
انتظامی ناکامی اس بحران کا مرکزی پہلو ہے۔ لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی جیسے ادارے، جنہیں اس ورثے کی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا، وہ نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوئے بلکہ کئی معاملات میں مکمل طور پر غیر فعال نظر آئے۔ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کو نہ تو روکا گیا اور نہ ہی ان کی وجوہات کا تجزیہ کیا گیا۔
سیوریج کا مسئلہ اس ناکامی کی سب سے واضح مثال ہے۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس مطلوبہ معیار پر کام نہیں کر رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ گھروں، ہوٹلوں اور ہاؤس بوٹس کا گندا پانی بدستور جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔ یہ نہ صرف پانی کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ جھیل کو ایک مردہ آبی ذخیرے میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر وسائل موجود تھے تو نتائج کیوں نہیں آئے؟یہاں مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیت، نگرانی اور جوابدہی کا ہے۔
تجاوزات کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ میر بحری، لٹی محلہ اور نندپورہ جیسے علاقوں میں جھیل کی حدود مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ فلوٹنگ گارڈنز کا بے قابو پھیلاؤ اور غیر قانونی تعمیرات جھیل کے پانی کو محدود کر رہی ہیں۔ مگر ان کے خلاف کارروائی یا تو سست روی کا شکار رہی یا محض کاغذی حد تک محدود رہی۔
اسی طرح جھیل کے مکینوں کی بازآبادکاری، ہاؤس بوٹس کی منتقلی اور زمین کے حصول جیسے اہم اقدامات بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ یہ وہ بنیادی اقدامات تھے جن کے بغیر کسی بھی بحالی منصوبے کی کامیابی ممکن نہیں تھی۔
مالی بدانتظامی اس پوری تصویر کو مزید دھندلا دیتی ہے۔۲۰۱۷سے۲۰۲۲کے درمیان کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ ہی نہیں کیے گئے۔ یہ وہ رقم تھی جو جھیل کی بحالی کے لیے مختص تھی، مگر اس کا استعمال نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مسئلہ ترجیحات کا ہے، وسائل کا نہیں۔
ڈل جھیل کی طرح ولر جھیل بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ولر جھیل تجاوزات اور سلٹیشن کے باعث سکڑ رہی ہے، جس سے اس کی قدرتی فلڈ بفر کی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو وادی کشمیر میں سیلاب کے خطرات میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ۱۹۶۷سے۲۰۲۰کے درمیان۳۱۵جھیلیں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں جیسا کہ سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم باقی جھیلوں کو بھی اسی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے خاموشی سے دیکھتے رہیں گے؟
یہ مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ معیشت اور سماج کا بھی ہے۔ ڈل جھیل سیاحت، زراعت اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔ اس کے سکڑنے کا مطلب صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں میں کمی اور سماجی ڈھانچے پر دباؤ بھی ہے۔
ماحولیاتی سطح پر بھی صورتحال خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے۔ جھیل میں غذائی اجزاء کی زیادتی پانی میں آکسیجن کی کمی کا باعث بن رہی ہے، جس سے آبی حیات متاثر ہو رہی ہے۔ کئی انواع کا ختم ہونا ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس مسئلے کو حل کرنے کا ارادہ بھی موجود ہے؟رپورٹ نے واضح سفارشات پیش کی ہیں: سیوریج نظام کی بہتری، زمین کے استعمال پر سخت کنٹرول، نگرانی کے مؤثر نظام، اور ایک جامع پالیسی فریم ورک۔ مگر ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ سفارشات اکثر فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک ماحولیاتی چیلنج نہ سمجھا جائے بلکہ ایک پالیسی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے۔ واضح اہداف، سخت نگرانی، اور غیر متزلزل سیاسی عزم کے بغیر کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
یہ وقت مزید تاخیر کا نہیں۔ڈل اور ولر جھیلیں اب صرف توجہ نہیں بلکہ فوری اور فیصلہ کن اقدام کا تقاضا کر رہی ہیں۔اگر اب بھی غفلت جاری رہی تو تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہان جھیلوں کو قدرت نے نہیں، انسان نے ختم کیا۔





