’ آئی ایم ایف نے زیادہ تر امیر ممالک کو فائدہ پہنچایا جبکہ ورلڈ بینک خاص طور پر کووڈ۱۹وبا کے دوران اپنے مقاصد میں ناکام رہا‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۱؍اپریل
اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھ رہا ہے، کیونکہ گزشتہ سال متعدد ممالک کی جانب سے کیے گئے وعدے، جن میں عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات بھی شامل ہیں، ابھی تک پورے نہیں کیے گئے۔
یہ رپورٹ اسپین کے شہر سیویل میں گزشتہ جون منظور کیے گئے اس خاکے کا جائزہ لینے کے لیے جاری کی گئی، جس کا مقصد۲۰۳۰تک اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف حاصل کرنا اور مالیاتی خلیج کو کم کرنا تھا۔ یہ رپورٹ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف )اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں سے قبل سامنے آئی ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ عالمی معیشت کو بہتر بنانے کی تیاری تھی، لیکن ایران جنگ نے اب عالمی اقتصادی منظرنامے کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے اقتصادی و سماجی امور لی جنہوا نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل کے حصول کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ بین الاقوامی تعاون کے لیے انتہائی نازک وقت ہے، جہاں جغرافیائی سیاست اقتصادی تعلقات اور مالی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔‘‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹیں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے جھٹکے بھی اس خلیج میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
گزشتہ سال سیویل کانفرنس میں متعدد ممالک کے رہنماؤں نے ’’سیویل کمٹمنٹ‘‘ کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا، جس کا مقصد ترقی کے لیے سالانہ۴ ٹریلین ڈالر کے مالی خلا کو پر کرنا تھا، تاہم امریکہ اس میں شامل نہیں تھا۔اس معاہدے میں ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی مالیاتی نظام، خصوصاً ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف میں اصلاحات پر زور دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پہلے بھی ان اداروں میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے زیادہ تر امیر ممالک کو فائدہ پہنچایا جبکہ ورلڈ بینک خاص طور پر کووڈ۱۹وبا کے دوران اپنے مقاصد میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں کئی ممالک شدید قرضوں میں ڈوب گئے۔
یہ تنقید دیگر ناقدین کے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے، جو کہتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی عالمی مالیاتی اداروں میں فیصلہ سازی پر حاوی ہیں، جس پر ترقی پذیر ممالک میں ناراضی پائی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’سیویل کمٹمنٹ‘‘ اس بڑھتے ہوئے مالی خلا کو کم کرنے کے لیے بہترین امید ہے، تاہم۲۰۲۵میں۲۵ممالک نے غریب ممالک کے لیے ترقیاتی امداد میں کمی کی، جس کے نتیجے میں۲۰۲۴کے مقابلے میں مجموعی طور پر۲۳فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اب تک کی سب سے بڑی سالانہ کمی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کمی(۵۹)امریکہ کی جانب سے دیکھی گئی، جبکہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۶میں مزید۵ء۸فیصد کمی متوقع ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیرفس، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات، نے ترقی پذیر ممالک پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
دنیا کے غریب ترین ممالک کی برآمدات پر اوسط ٹیرف۲۰۲۵ میں۹ فیصد سے بڑھ کر۲۸فیصد ہو گیا، جبکہ چین کو چھوڑ کر دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ شرح۲فیصد سے بڑھ کر۱۹فیصد تک پہنچ گئی۔ (اے پی)










