نئی دہلی، 08 اپریل (یو این آئی) اروناچل پردیش میں 40 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت والے دو پن بجلی منصوبوں (ہائیڈرو پاور پروجیکٹس) کو بدھ کے روز مرکزی کابینہ کی منظوری مل گئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں آج یہاں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے سرمایہ کاری کی دونوں تجاویز کو منظوری دی۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے کابینہ کے اجلاس کے بعد بتایا کہ 1720 میگاواٹ کے کملا پن بجلی منصوبے کے لیے 26,069.50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی ہے۔
اس منصوبے کو این ایچ پی سی کے ذریعے اروناچل پردیش حکومت کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر مکمل کیا جائے گا۔ اس کا پھیلاؤ کاملے، کرا دادی اور کرونگ کومے اضلاع میں ہوگا اور تعمیراتی کام 96 ماہ میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ کملا ندی پر بننے والے اس منصوبے میں 210 میگاواٹ کے آٹھ اور 40 میگاواٹ کا ایک پلانٹ ہوگا۔ اس سے 687 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف اروناچل پردیش اور نیشنل گرڈ کے ذریعے دیگر ریاستوں کو بجلی ملے گی، وہیں دوسری طرف وادی برہم پتر میں سیلاب کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
انجا اضلاع میں لوہت ندی پر 1200 میگاواٹ کے کلائی-2 پن بجلی منصوبے کے لیے 14,105.83 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو بھی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کی تعمیر 78 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس میں 190 میگاواٹ کے چھ اور 60 میگاواٹ کا ایک پلانٹ ہوگا۔ تعمیراتی کام اروناچل حکومت کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں ٹی ایچ ڈی سی انڈیا کے ذریعے کیا جانا ہے۔
کملا پن بجلی منصوبے کے لیے مرکزی حکومت ریاست کے ایکویٹی شیئر کے لیے مالی امداد کے طور پر 750 کروڑ روپے، سیلاب کی روک تھام کے لیے بجٹی امداد کے طور پر 4,743.98 کروڑ روپے اور سڑکوں، پلوں وغیرہ جیسے بنیادی ڈھانچے کے لیے 1,340 کروڑ روپے کی مدد فراہم کرے گی۔ کلائی-2 منصوبے کے لیے مرکزی حکومت ایکویٹی شیئر کے لیے ریاستی حکومت کو 750 کروڑ روپے کی مالی امداد اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 599.88 کروڑ روپے کی بجٹی مدد فراہم کرے گی۔
ان دونوں منصوبوں کے علاوہ ریاست میں اس وقت 2000 میگاواٹ کا سبنسری لوئر اور 2,880 میگاواٹ کا دیبانگ کثیر المقاصد پن بجلی منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ ساتھ ہی 3097 میگاواٹ کے ایٹالن پن بجلی منصوبے کی ترقی این ایچ پی سی کے ذریعے کرنے کا منصوبہ ہے۔ سبنسری لوئر پروجیکٹ میں 750 میگاواٹ کا کام شروع ہو چکا ہے اور بقیہ صلاحیت کے اس سال دسمبر تک شروع ہونے کی امید ہے۔ ان تمام منصوبوں سے ریاست کو 12 فیصد مفت بجلی ملے گی اور اضافی ایک فیصد مقامی علاقائی ترقیاتی فنڈ کے تحت دی جائے گی۔










