نئی دہلی، 08 اپریل (یو این آئی) دیش بچاؤ گن منچ اور بھارت جوڑو ابھیان تنظیموں نے بدھ کے روز الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہدایات پر مغربی بنگال میں خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے نام پر بڑے پیمانے پر لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں۔
یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں آج منعقدہ پریس کانفرنس میں تنظیم کے رہنماؤں نے یہ الزامات لگائے۔ اس موقع پر سماجی کارکن یوگیندر یادو، سینئر وکیل پرشانت بھوشن، ڈاکٹر دیپانکر ڈے اور سمن بھٹاچاریہ موجود تھے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ مغربی بنگال میں اب تک تقریباً 92 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں، جو کئی یورپی ممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہٹائے گئے ناموں میں مسلمانوں اور خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مرشد آباد، مالدہ اور شمالی دیناج پور جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ مسلم ججوں اور ریاستی حکومت کے ایک مسلم ایڈمنسٹریٹو سکریٹری کے اہل خانہ کے نام بھی ووٹر لسٹ سے نکالنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ خواتین کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ متوا علاقوں میں خواتین کے نام بڑی تعداد میں ہٹائے گئے ہیں، جو روایتی طور پر بی جے پی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ کیا خواتین کو سیاسی رجحان کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ بی جے پی طویل عرصے سے بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اب "ووٹ چوری” جیسے غیر اخلاقی طریقوں کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر عمل کے دوران 220 افراد کی موت ہوئی ہے، جن میں 30 بوتھ لیول آفیسرز اور 190 عام شہری شامل ہیں۔ تنظیم نے اسے "انتخابی قتل عام کی طرف بڑھتا قدم” قرار دیا۔










