جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ایک طویل عرصے سے سرگرم لشکرِ طیبہ کے محفوظ ٹھکانوں اور مالیاتی نیٹ ورک کا خاتمہ بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ دو پاکستانی دہشت گردوں کی گرفتاری، جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے اوجھل رہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ سکیورٹی ادارے نہ صرف متحرک ہیں بلکہ پیچیدہ اور گہرے جال کو بھی بے نقاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سرحدوں پر نہیں بلکہ معاشرے کے اندر موجود خفیہ ڈھانچوں کے خلاف بھی لڑی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کا یہ بیان کہ ’تم بھاگ سکتے ہو، مگر چھپ نہیں سکتے‘ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ برسوں میں سکیورٹی اپریٹس کا خاصہ بن چکا ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی، اور زمینی سطح پر مسلسل نگرانی نے ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر اس آپریشن میں جس طرح مقامی معاونین (او جی ڈبلیوز) کو بھی گرفتار کیا گیا، وہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق اٹھانے والوں تک محدود نہیں بلکہ ایک پورا ماحولیاتی نظام اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔
تاہم، اس کامیابی کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: اگر دہشت گردی ختم ہو چکی ہے، جیسا کہ بعض اوقات دعویٰ کیا جاتا ہے، تو پھر ایسے نیٹ ورکس مسلسل سامنے کیوں آ رہے ہیں؟ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہی سوال دراصل زمینی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ’یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں اور کیوں آتے ہیں‘ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ پالیسی سوال ہے جس پر غور کرنا ناگزیر ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بڑے حملوں کی تعداد گھٹی ہے، سکیورٹی فورسز کی کامیابیاں بڑھی ہیں، اور عام شہریوں کی زندگی نسبتاً پرامن ہوئی ہے۔ سیاحت میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں کا بحال ہونا، اور روزمرہ زندگی کا معمول پر آنا اس بہتری کے واضح اشارے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
دراصل، دہشت گردی کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب یہ روایتی حملوں کی بجائے ’ہائبرڈ‘ماڈلز میں سامنے آ رہی ہے، جہاں مقامی افراد وقتی طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، یا خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کی جاتی ہے۔ حالیہ کارروائی میں سامنے آنے والا بین الریاستی پہلو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب اپنی سرگرمیوں کو ایک وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیلا رہی ہیں۔ ہریانہ اور راجستھان تک پھیلے روابط اس خطرے کی پیچیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کے پیچھے ایک بنیادی عنصر بدستور موجود ہے:سرحد پار سے جاری حمایت۔ پاکستان کے عزائم میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ وہ آج بھی دہشت گردی کو اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ دراندازی کی کوششیں، مالی معاونت کے خفیہ راستے، اور نظریاتی پراپیگنڈہ‘یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ کی جڑ ابھی باقی ہے۔ جب تک اس جڑ کو ختم نہیں کیا جاتا، تب تک ایسے نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے: مالیاتی نیٹ ورکس۔ پولیس حکام کی جانب سے یہ انکشاف کہ مذہبی سفر کے نام پر رقوم منتقل کی جا رہی تھیں، ایک تشویشناک رجحان ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اب روایتی بینکنگ چینلز کے علاوہ غیر رسمی اور بظاہر بے ضرر طریقوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا، تاکہ ان نئے طریقوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
اسی طرح، مقامی سطح پر موجود معاونین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ یہ لوگ نہ صرف پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں بلکہ معلومات، نقل و حرکت، اور دیگر سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی بھی دہشت گرد نیٹ ورک زیادہ دیر تک فعال نہیں رہ سکتا۔ اس لیے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ سماجی اور نظریاتی سطح پر بھی کام کرنا ضروری ہے تاکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
عوامی تعاون اس سلسلے میں ایک کلیدی عنصر ہے۔ پولیس کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا ہے کہ شہریوں کی بروقت اطلاع نے کئی بڑے حملوں کو روکنے میں مدد دی ہے۔ یہ اعتماد اور تعاون ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو نہ صرف سکیورٹی کا احساس دیا جائے بلکہ انہیں اس عمل کا حصہ بھی بنایا جائے۔
دوسری جانب، سیاسی بیانیے میں بھی توازن کی ضرورت ہے۔ اگر ایک طرف کامیابیوں کو اجاگر کرنا ضروری ہے، تو دوسری طرف زمینی حقائق کو تسلیم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ تو خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے اور نہ ہی اسے مکمل طور پر ختم شدہ قرار دیا جائے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے—جہاں بہتری بھی ہے اور چیلنجز بھی۔
عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ ماضی میں بڑے حملے ناکام رہے اور دہشت گرد اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے، ایک حد تک درست ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مسلسل چوکسی اور مؤثر حکمت عملی ہی اس خطرے کو قابو میں رکھ سکتی ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالیہ کارروائی ایک اہم سنگ میل ضرور ہے، مگر یہ منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ ہے۔ جموں و کشمیر میں امن کی بحالی ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے، جس میں سکیورٹی، سیاست، معیشت، اور سماج—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، مگر جب تک سرحد پار سے آنے والے خطرات کا مکمل سدباب نہیں ہوتا، تب تک اس جنگ کو ختم شدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
خاموشی میں ایک حقیقت واضح رہتی ہے:امن آہستہ آتا ہے، مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بیداری درکار ہوتی ہے۔



