نئی دہلی، 07 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ میں سبریمالہ مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق 2018 کے فیصلے کی نظرثانی درخواستوں پر حتمی سماعت شروع ہو گئی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ تمام آئینی سوالات کو صرف صنفی مساوات کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی کا دفاع کیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں نو ججوں پر مشتمل بنچ اس کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ اس بنچ میں جسٹس بی وی ناگرتنا، ایم ایم سندریش، احسان الدین امان اللہ، اروند کمار، آگسٹین جارج مسیح، پرسنا بی ورالے، آر مہادیون اور جوئے مالیا باگچی شامل ہیں۔
مرکز اور کیرالہ حکومت نے اپنے موقف میں کہا کہ یہ پابندی مندر کے دیوتا کی نوعیت سے وابستہ ایک "ضروری مذہبی عمل” ہے، جو عدالتی نظرثانی کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی تنوع ہے اور مختلف مذاہب و فرقوں کی اپنی اپنی روایات ہیں، جنہیں سمجھتے ہوئے عدالت کو فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت مذہبی عقائد کی جانچ نہیں کر رہی بلکہ آئینی تشریح کر رہی ہے، اور اس میں تنوع کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 28 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے بنچ نے 4:1 کی اکثریت سے مندر میں خواتین کے داخلے پر عمر سے متعلق پابندی ختم کر دی تھی۔ جنوری 2020 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے پر نظرثانی کے لیے نو ججوں کی بنچ تشکیل دی تھی اور 10 فروری 2020 کو یہ تسلیم کیا تھا کہ نظرثانی کی درخواستیں قابلِ سماعت ہیں۔










