نئی دہلی، 6 اپریل (یو این آئی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس رسوئی گیس (ایل پی جی) کے بحران سے نمٹنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور اس وقت بھی وہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے جو ملک کے لوگوں نے کووڈ کے وقت دیکھی تھی مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا، "مودی جی نے کہا تھا – ایل پی جی بحران کو کووڈ کی طرح ہینڈل کریں گے اور سچ میں وہی کیا۔ بالکل کووڈ کے جیسی ہی پالیسی صفر، اعلان بڑے اور بوجھ غریبوں پر۔
ہر روز 500-800 کی دہاڑی کمانے والے نقل مکانی کرنےوالے مزدوروں کے لیے رسوئی گیس پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ رات کو گھر لوٹنے والے مزدور کے پاس چولہا جلانے تک کے پیسے نہیں۔
نتیجہ شہر چھوڑو، گاؤں بھاگو۔” انہوں نے کہا کہ جو مزدور کپڑا ملوں اور فیکٹریوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، آج وہی ٹوٹ رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر پہلے ہی انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر دم توڑ رہا ہے۔
اس بحران کی وجہ بتاتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا، "اور یہ بحران آیا کہاں سے۔ سفارت کاری کی میز پر ہوئی اس چوک سے جسے حکومت آج تک تسلیم نہیں کرتی۔ جب انا پالیسی بن جائے تو معیشت چرمرا جاتی ہے، مزدور نقل مکانی کرتے ہیں، صنعتیں تباہ ہوتی ہیں اور ملک دہائیوں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔” انہوں نے بحران کے وقت لوگوں سے خاموش نہ رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوال ایک ہی ہے کہ ہر بحران میں سب سے پہلے غریب کیوں مرتا ہے۔ خاموش مت رہو۔ یہ صرف غریب کا نہیں، ہم سب کا سوال ہے۔










