عدالتی تحقیقات میں وقت لگتا ہے‘ جج بھی دستیاب نہیں :وزیر اعلیٰ
ویب ڈیسک
جموں؍۶؍ اپریل
جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو گاندربل انکاؤنٹر میں عدالتی یا مجسٹریٹ انکوائری کرانے کی بحث میں پڑنے سے انکار کر دیا، اور لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے طلب کی گئی جانچ کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوری تحقیقات کی ضرورت تھی۔
فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ۳۱ مارچ کو ارہما جنگلات میں ہونے والے انکاؤنٹر میں مارا گیا شخص ‘ جس کی شناخت گاندربل کے رہائشی راشد احمد مغل کے طور پر ہوئی ‘ ایک دہشت گرد تھا۔ تاہم، ان کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کا کوئی دہشت گرد تعلق نہیں تھا اور انہوں نے اس انکاؤنٹر کو جعلی قرار دیا، جبکہ مناسب تدفین کے لیے ان کی لاش واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔
عمر عبداللہ نے اس معاملے پر ایک سوال کے جواب میں نامہ نگاروں کو بتایا’’میں اس بحث میں نہیں پڑوں گا کہ عدالتی انکوائری ہونی چاہیے یا مجسٹریٹ انکوائری‘‘۔
طریقہ کار میں تاخیر کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عدالتی انکوائری کا حکم دینے میں اکثر کافی وقت لگتا ہے۔انہوں نے کہا ’’عدالتی انکوائری کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ پہلی بات تو آج کل موجودہ جج آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے، اور سپریم کورٹ نے بھی ایسی تعیناتیوں پر کافی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ریٹائرڈ جج کو لانا بھی اتنا آسان نہیں ہے‘‘۔
تیز رفتار عمل کی حمایت کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ انکوائری بغیر وقت ضائع کیے کی جانی چاہیے۔ اسے فوری طور پر شروع کیا جائے، اور اگر معاملے میں کوئی سچائی ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جائے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے طلب کردہ مجسٹریٹ انکوائری کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’میرے خیال میں لیفٹیننٹ گورنر نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ درست ہے۔ مجسٹریٹ انکوائری کو اپنا کام کرنے دیں، اور جو بھی سچائی ہوگی، وہ عوام کے سامنے آ جائے گی‘‘۔
ایران کے وسیع تر حالات کا حوالہ دیتے ہوئے، عمرعبداللہ نے امریکی صدر کے بیانات کا نوٹس لیا اور ان کی عوامی مواصلات کے لہجے پر سوال اٹھایا۔
وزیرا علیٰ نے کہا’’امریکی صدر اور ان کے دفتر کی طرف سے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے‘کیا یہ ان کے یا ان کے دفتر کے شایانِ شان ہے؟ کیا اس عہدے پر فائز کسی شخص کے لیے ایسی بیان بازی مناسب ہے؟ الفاظ اس طرح کے استعمال ہو رہے ہیں کہ آپ اور میں بھی انہیں بغیر سنسر کیے نشریات میں دہرا نہیں سکتے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ عہدے کا وقار برقرار رکھا جانا چاہیے۔
جنگ کے معاملے پر، وزیراعلیٰ نے طویل تنازع پر تشویش کا اظہار کیا۔ ’’ہم سب اس کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ جتنا زیادہ طویل ہوگا، ہمارے سب کے لیے اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا‘‘۔
امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا’’ہم سب امید کرتے ہیں کہ جلد از جلد جنگ بندی کا اعلان کیا جائے، جنگ ختم ہو، اور موجودہ صورت حال مستحکم اور بہتر ہو۔‘‘










