نئی دہلی؍۶؍ اپریل
حکومت نے قومی شاہراہ منصوبوں کے لیے نئی مدت مقرر کرتے ہوئے۳۰۰کروڑ روپے تک کے منصوبوں کی تعمیر کے لیے بنیادی مدت۱۲ ماہ اور۳۰۱سے۵۰۰کروڑ روپے تک کے منصوبوں کیلئے ۱۸ ماہ طے کر دی ہے۔
وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نے پیر کے روز جاری ایک سرکلر میں کہا کہ میدانی اور ہلکے نشیبی علاقوں میں قومی شاہراہ منصوبوں کی مدت کا تعین کل سول لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس کے لیے سائنسی تجزیے کے بعد موجودہ رہنما اصولوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔
اسی طرح۵۰۱سے۱۵۰۰کروڑ روپے لاگت والے منصوبوں کے لیے بنیادی تعمیراتی مدت۲۴ ماہ مقرر کی گئی ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ منصوبوں کی نوعیت اور پیچیدگی—جیسے متعدد ریلوے اوور برجز‘ ایلیویٹڈ اسٹرکچرز یا سرنگوں کی لمبائی—کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بنیادی مدت میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
سرکلر کے مطابق مشکل جغرافیائی حالات، خاص طور پر کٹائی اور ڈھلوانوں کے استحکام جیسے عوامل کو دیکھتے ہوئے اضافی ۱۲ماہ بھی شامل کیے جائیں گے۔
یہ نئی مدتیں تمام قومی شاہراہ منصوبوں پر لاگو ہوں گی جو۶ مئی۲۰۲۶ یا اس کے بعد انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن‘ ہائبرڈ اینوئٹی ماڈل یا بلٹ آپریٹ ٹرانسفر کے تحت شروع کیے جائیں گے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ اصول پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں، خصوصاً ہمالیائی اور شمال مشرقی ریاستوں جیسے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر (جموں کے علاوہ)، لداخ، سکم، دارجلنگ کے پہاڑی علاقے، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور میگھالیہ میں بھی لاگو ہوں گے۔










