آپریشن سندور ابھی بند نہیں ہوا‘ہمسایہ ملک نے کوئی ناپاک حرکت کی توایسا جواب دیا جائےگا جو وہ کبھی بھول نہیں سکے گا‘
اپوزیشن اس نازک وقت میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ’چھوٹی سیاست‘ کر رہی ہے:وزیر دفاع
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲؍اپریل
وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعرات کو موجودہ عالمی صورتحال، خصوصاً ایران جنگ کے تناظر میں بھارت کے’پڑوسی‘ کو کسی بھی ممکنہ ’مہم جوئی‘ کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی وارننگ دی۔
۲۸ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی ردعمل نے مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
راجناتھ سنگھ نے بغیر کسی ملک کا نام لیے کہا’’موجودہ حالات میں ہمارا پڑوسی کسی بھی مہم جوئی کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت کا جواب بے مثال اور فیصلہ کن ہوگا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور‘ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
کیرالم میں ایک ’سینک سمان سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی بحریہ کے جہاز آبنائے ہرمز میں ملک کے آئل ٹینکروں کو بحفاظت اسکارٹ کر رہے ہیں۔
راجناتھ سنگھ کے بیانات بظاہر پاکستان کی طرف اشارہ تھے، جس کے خلاف بھارت نے گزشتہ سال مئی میں’آپریشن سندور‘ کے تحت فوجی کارروائی کی تھی، جو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے جواب میں کی گئی تھی۔
ملک میں ایندھن کی قلت سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’کچھ لوگ مغربی ایشیا کی صورتحال کے حوالے سے جھوٹ پھیلا کر خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ نہ تو ملک میں پیٹرول-ڈیزل کی کمی ہے اور نہ ہی گیس کی قلت۔ بھارت کسی بھی توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس نازک وقت میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ’چھوٹی سیاست‘ کر رہی ہے۔
سنگھ نے مزید کہا’’آج ہم ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑا تنازع چل رہا ہے۔ کیرالم کے بہت سے لوگ ان ممالک میں کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پہلگام میں دہشت گردوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنانا صرف بھارت پر نہیں بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی پر حملہ تھا۔
سنگھ نے بتایا کہ’آپریشن سندور‘ کے تحت بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے بعد پاکستان کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث چار روزہ فوجی تصادم بھی ہوا۔
اس دوران بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے تریپاٹھی نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران بھارتی بحریہ پاکستان پر سمندر کے راستے حملہ کرنے سے صرف چند منٹ کی دوری پر تھی، جب اسلام آباد نے عسکری کارروائی روکنے کی درخواست کی۔
نیوی چیف ایک نیول انویسٹیچر تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے گزشتہ سال پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد کیے گئے آپریشن سندور کے دوران نمایاں خدمات انجام دینے پر دو اعلیٰ بحری افسران کو یدھ سیوا میڈل سے نوازا۔
تریپاٹھی نے کہا کہ آپریشن سندور نے بھارتی بحریہ کی اعلیٰ تیاری اور عزم کا مظاہرہ کیا، کیونکہ اس دوران بحری یونٹس نے فوری تعیناتی کی اور پورے عرصے میں جارحانہ حکمت عملی برقرار رکھی۔
ایڈمرل تریپاٹھی نے کہا’’یہ اب کوئی پوشیدہ بات نہیں کہ ہم سمندر سے پاکستان پر حملہ کرنے سے صرف چند منٹ دور تھے، جب انہوں نے کائنیٹک کارروائی روکنے کی درخواست کی‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سندور کے دوران تیز اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے بھارتی بحریہ نے اپنی صلاحیتوں پر قوم کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔
بحریہ کے سربراہ نے کہا’’آپریشن سندور اور سال بھر جاری آپریشنل سرگرمیوں کے علاوہ ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہم نے وزیر اعظم کو مغربی ساحل پر بھارتی بحریہ کے ساتھ۱۷گھنٹے کے تاریخی سفر کے دوران اپنی آپریشنل صلاحیتوں کی وسعت اور گہرائی کا مظاہرہ کیا‘‘۔
مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں۲۰سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
تریپاٹھی نے کہا کہ تقریباً۱۹۰۰جہاز اس تنازع کے باعث پھنسے ہوئے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز سے روزانہ گزرنے والی جہازوں کی تعداد کم ہو کر۶سے۷رہ گئی ہے، جو اس سے پہلے اوسطاً تقریباً۱۳۰ہوا کرتی تھی۔
نیوی چیف نے کہا’’ایک ایسے وقت میں جب عالمی نظام میں ٹوٹ پھوٹ اور کشیدگی بڑھ رہی ہے، سمندر اب ثانوی میدان نہیں رہے بلکہ وہ پہلا میدان بن رہے ہیں جہاں اسٹریٹجک عزائم کا اظہار اور مقابلہ کیا جاتا ہے‘‘۔
ترپاٹھی نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اور حکمت عملیوں نے نہ صرف جنگوں کے طریقہ کار کو بدل دیا ہے بلکہ غیر روایتی چیلنجز کو بھی زیادہ پیچیدہ اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سمندری ماحول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تنظیمی سطح پر دور اندیشی، یونٹ سطح پر جنگی تیاری اور انفرادی سطح پر پیشہ ورانہ مہارت کو مضبوط بنایا جائے۔










