نہیں صاحب ہم کسی کو کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دے رہے ہیں …….بالکل بھی نہیں دے رہے ہیں ۔ہم وہ کہہ رہے ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں ‘ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ……. اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی کوئی قطار نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے‘لمبی اور نہ چھوٹی ۔ پیٹرول پمپوں میں تیل میں موجود ہے ‘ کافی مقدار میں موجود ہے …….ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تھوڑی تاخیر سے ہی سہی لیکن لوگوں کو رسوئی گیس کے سلنڈر بھی مل رہے ہیں ……. ایک آدھ ہی سہی لیکن مل رہے ہیں ۔ ہمارے باورچی کھانوں میں رسوئی گیس کی جگہ کسی اور ایندھن نے نہیں لی ہے‘ بالکل بھی نہیں لی ہے …….اور یہ سب کچھ دیکھ کر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ……. کہ صاحب اگر پیٹرول پمپوں پر ایندھن دستیاب ہے اور وافر مقدار میں دستیاب ہے تو جو ہم بیچ بیچ میں لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹوں اپنی بار ی کا انتظار کیوں کرتے ہیں۔ وہ کیا ہے ……. وہ کس کی طرف اشارہ کرتا ہے ؟ظاہر ہے ہماری طرف ہی اشارہ کرتا ہے ‘ چیزوں کو ذخیرہ کرنے کی ہماری عادت کی طرف اشارہ کرتاہے …….یقینا ًایران پر حملے کے بعد دنیا ایک بحرانی صورتحال سے دو چار ہو گئی ہے……. ایسے میں کئی ممالک ہیں جنہیں ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ……. اور صاحب یہ بھی سچ ہے کہ صورتحال مزید خراب بھی ہو سکتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے …….ابتر سے بہتر نہیں بلکہ ابتر سے مزید ابتر ہو رہی ہے اور ……. اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کا ہم اور آپ پر بھی اثر ہو……. لیکن صاحب آج کے دن کی بات کریں تو صاحب سچ ……. سو فیصد سچ یہ ہے کہ ملک بھر میں عام لوگوں کو اُس صورتحال کا سامنا نہیں پڑ رہا ہے جس کا ہماری ہمسائیگی میں لوگوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے …….ہم صاحب یہ بھی نہیں کہہ رہے ہیں کہ اس کا کریڈٹ کسی کو دیجئے ……. بالکل بھی نہ دیجئے …….ہم تو صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ذخیرہ کرنے کی عادت اچھی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے …….اگر ممکن ہو سکے تو صاحب اس عادت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کیجئے …….کہ اللہ میاں کی قسم یہ اچھی عادت نہیں ہے‘ بالکل بھی نہیں ہے ۔ ہے نا؟




