جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جو بوئے گا وہی پائے گا :

گلوبل ٹیررازم انڈیکس۲۰۲۶کی رپورٹ 

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-24
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 

گلوبل ٹیررازم انڈیکس۲۰۲۶میں پاکستان کا پہلے نمبر پر آنا دنیا کے لیے شاید ایک خبر ہو، لیکن جموں و کشمیر کے ان لاکھوں باشندوں کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستانی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ حقیقت اپنے گھروں کی راکھ میں، اپنے پیاروں کی لاشوں میں اور اپنی تباہ شدہ معیشت میں بہت پہلے پڑھ لی تھی۔ آج پاکستان جس آگ میں جل رہا ہے، اس کی چنگاری اسی نے جموں و کشمیر میں لگائی تھی اور آج وہی چنگاری واپس آ کر اس کا اپنا دامن جلا رہی ہے۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

۱۹۸۹ میں جب جموں و کشمیر میں دہشت گردی  کا آغاز ہوا تو پاکستان نے اسے اپنے ’اسٹریٹجک مقاصد‘ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ افغانستان میں سوویت جنگ سے فارغ ہونے والے ہزاروں لڑاکوں کو، جنہیں آئی ایس آئی نے تربیت دی تھی اور جن کے ہاتھ میں اسلحہ تھا، کشمیر کے محاذ پر بھیج دیا گیا۔ لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، حزب المجاہدین اور درجنوں دیگر مسلح تنظیمیں پاکستانی سرزمین پر قائم ہوئیں، وہاں تربیت گاہیں بنائی گئیں، فنڈنگ کے ذرائع قائم کیے گئے اور ان گروہوں کو باقاعدہ ریاستی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہ کوئی خفیہ بات نہیں یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے جسے دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹیں اور خود پاکستانی فوجی قیادت کے مختلف اوقات میں کیے گئے اعترافات تصدیق کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں اس چار دہائیوں کی پراکسی جنگ کی انسانی قیمت ناقابلِ بیان ہے۔ ہزاروں عام شہری  جن میں بچے، بوڑھے، خواتین سب شامل تھے لقمہ اجل بنے۔ سکول اساتذہ، سرکاری ملازمین، صحافی اور سماجی کارکن نشانہ بنائے گئے۔ لیکن اس پوری تاریخ کا سب سے تاریک باب وہ ہے جو۱۹۹۰کی دہائی کے اوائل میں لکھا گیا جب کشمیری پنڈتوں کو ان کے آبائی گھروں سے زبردستی نکال دیا گیا۔ تین لاکھ سے زیادہ کشمیری پنڈت راتوں رات بے گھر ہوئے، ان کے گھر جلائے گئے، ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا اور انہیں صدیوں پرانی اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ ایک مکمل نسلی تطہیر تھی جو مسلح دہشت گردی کی آڑ میں کی گئی اور آج تین دہائیوں سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی یہ بے گھر خاندان اپنے وطن واپس نہیں آ سکے۔

معاشی تباہی کی داستان اس سے بھی زیادہ دردناک ہے۔ کشمیر جو کبھی اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، عالمی سطح پر مشہور سیاحت اور منفرد دستکاری کی وجہ سے’زمین پر جنت‘ کہلاتا تھا، وہ برسوں تک دہشت اور خوف کی علامت بن گیا۔ سیاحتی صنعت جو لاکھوں خاندانوں کی معاش کا واحد ذریعہ تھی، مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ڈل جھیل کے شکارے خالی پڑے رہے، گلمرگ کی ڈھلوانیں ویران ہو گئیں، پہلگام کی وادیاں سنسان ہو گئیں۔ کشمیری کڑھائی، پشمینہ شال، خشک میوہ جات اور دیگر مصنوعات جن کی دنیا بھر میں مانگ تھی، ان کی تجارت ٹھپ ہو گئی کیونکہ نہ تاجر آتے تھے اور نہ راستے محفوظ تھے۔ دہائیوں تک سرمایہ کاری نہ ہو سکی، نئے کاروبار نہ لگ سکے اور نوجوان نسل کو روزگار کے مواقع نہ ملے۔

تعلیمی نظام کی تباہی شاید سب سے دور رس اثرات کی حامل ہے۔ سکول بند ہوئے یا جلائے گئے، اساتذہ دہشت گردی کا نشانہ بنے، اور طلبا نے برسوں تعلیم سے محروم رہ کر گزارے۔ ایک پوری نسل ایسے ماحول میں جوان ہوئی جہاں بندوق کی آواز معمول تھی اور سکول کی گھنٹی استثنا۔ کرفیو اور ہڑتالوں نے زندگی کو اس طرح مفلوج کیا کہ ڈاکٹر سے ملنا، بازار جانا، یہاں تک کہ پڑوسی کے گھر جانا بھی جان جوکھم کا کام بن گیا۔ نفسیاتی صدمے کا حساب لگانا ممکن نہیں خوف، غیر یقینی اور مسلسل پریشانی میں پلی بڑھی نسلوں کے زخم نسلوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

پاکستانی ریاست نے اس سب کے باوجود کبھی اپنی ذمہ داری تسلیم نہیں کی۔ لشکرِ طیبہ کا بانی حافظ سعید برسوں تک پاکستان میں کھلے عام ریلیاں نکالتا رہا۔ جیشِ محمد کا سربراہ مسعود اظہر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے باوجود محفوظ رہا۔۲۰۰۸ کے ممبئی حملوں میں جب لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں نے۱۶۶بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تو پاکستان نے مجرموں کو کوئی حقیقی سزا نہیں دی۔ یہ محض غفلت نہیں تھی یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی تھی جس کے تحت ان گروہوں کو ’اسٹریٹجک اثاثے‘ سمجھا جاتا تھا۔

لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ جو آگ دوسروں کے گھر جلانے کے لیے روشن کی جاتی ہے، وہ ایک دن اپنا دامن بھی پکڑ لیتی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان انہی نظریات، انہی نیٹ ورکوں اور انہی تربیتی ڈھانچوں کی پیداوار ہے جو کشمیر اور افغانستان کے’جہاد‘ کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ آئی ای پی رپورٹ بتاتی ہے کہ۲۰۲۵ میں ٹی ٹی پی نے۵۹۵حملے کیے‘۶۳۷؍افراد ہلاک ہوئے اور یرغمالیوں کی تعداد۱۰۱ سے بڑھ کر۶۵۵ ہو گئی۔ جس نظریاتی کارخانے میں کشمیر کے لیے’مجاہد‘ تیار کیے گئے تھے، اسی کارخانے نے پاکستان کے لیے قاتل پیدا کر دیے۔

جموں و کشمیر کے عوام نے جو کچھ چار دہائیوں میں بھگتا وہ نہ ان کا انتخاب تھا، نہ ان کا قصور۔ وہ ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی کھیل کے بے گناہ مہرے بنائے گئے۔ ان کی معیشت تباہ ہوئی، ان کی تعلیم برباد ہوئی، ان کے گھر اجڑے اور ان کے پیارے چھن گئے تاکہ اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے چند لوگ اپنی’اسٹریٹجک گہرائی‘ کا خواب پورا کر سکیں۔ وہ خواب آج کابوس بن کر پاکستان کو خود نگل رہا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پہلا نمبر شرم کا مقام ہے لیکن اس سے بھی بڑی شرم یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے ہزاروں بے گناہ متاثرین کا حساب آج تک نہیں دیا گیا۔ پاکستان وہی فصل کاٹ رہا ہے جو اس نے دوسروں کے کھیتوں میں بوئی تھی اور اب اس کے اپنے کھیت بھی اسی آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ جب تک اس حقیقت کا اعتراف نہیں ہوگا اور سرحد پار دہشت گردی کی پالیسی کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جائے گا، نہ پاکستان کا پہلا نمبر بدلے گا اور نہ خطے میں امن آئے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’مغربی ایشیا کی صورتحال تشویشناک‘

Next Post

مساجد میں ایمرجنسی ختم

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

مساجد میں ایمرجنسی ختم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.