جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عید الفطر: خوشیوں کا دن یا ذمہ داری کا امتحان؟

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-21
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

برصغیر ہند و پاک اور جموں و کشمیر میں آج مارچ کو عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ ایک ماہ کے روزوں، عبادتوں اور روحانی ریاضت کے بعد یہ دن بلاشبہ خوشی، شکرگزاری اور مسرت کا دن ہوتا ہے۔ گھروں میں تیاریوں کا سلسلہ عروج پر ہے، بازاروں میں رونقیں ہیں، بچوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، اور ہر طرف ایک تہوار کا سا سماں ہے۔ مگر اس ساری چہل پہل کے بیچ ایک سوال خاموشی سے سر اٹھاتا ہے‘کیا عید واقعی صرف نئے کپڑوں، لذیذ پکوانوں اور ظاہری خوشیوں کا نام ہے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ عید الفطر کی اصل روح اس سے کہیں زیادہ گہری اور بامعنی ہے۔ یہ دن محض جشن کا نہیں بلکہ احساس کا دن ہے، محض خرچ کرنے کا نہیں بلکہ بانٹنے کا دن ہے، اور محض اپنی خوشی تک محدود رہنے کا نہیں بلکہ دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھنے کا دن ہے۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

رمضان المبارک دراصل ایک تربیتی مہینہ ہے۔ یہ انسان کو بھوک اور پیاس کے ذریعے ان لوگوں کے قریب لے آتا ہے جو سال بھر محرومیوں کا شکار رہتے ہیں۔ روزہ ہمیں صرف عبادت نہیں سکھاتا بلکہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ معاشرے میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے لیے ایک وقت کی روٹی بھی آسان نہیں۔ یہی وہ سبق ہے جسے عید کے دن بھلانا دراصل رمضان کی روح سے غفلت کے مترادف ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عید کا تصور رفتہ رفتہ ایک نمائش میں بدلتا جا رہا ہے۔ مہنگے کپڑے، برانڈڈ جوتے، قیمتی تحائف اور پرتکلف دعوتیں اب عید کی پہچان بنتی جا رہی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر دکھانے کی کوشش میں اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کر بیٹھتے ہیں، جبکہ اسی معاشرے میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جہاں عید کا مطلب صرف ایک عام دن سے کچھ مختلف نہیں ہوتا۔

عید الفطر کا ایک بنیادی جزو صدقۂ فطر ہے، جسے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی غریب، کوئی محتاج، کوئی یتیم اس خوشی کے دن محرومی کا شکار نہ رہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس فریضے کو محض ایک رسمی ادائیگی سمجھ کر ادا کر دیتے ہیں، جبکہ اس کی اصل روح کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صدقۂ فطر کو صرف ایک مالی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک سماجی فریضہ اور اخلاقی عہد کے طور پر ادا کریں۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنا ہوگا—وہ کون لوگ ہیں جو ہماری توجہ کے منتظر ہیں؟ وہ کون سے گھر ہیں جہاں چولہا بمشکل جلتا ہے؟ وہ کون سے بچے ہیں جو عید کے دن بھی نئے کپڑوں کے خواب دیکھتے رہ جاتے ہیں؟

عید کا اصل حسن اسی میں ہے کہ ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کریں۔

رمضان ہمیں صبر، برداشت، ایثار اور ہمدردی سکھاتا ہے۔ اگر یہ اوصاف عید کے دن ہمارے عمل میں نظر نہ آئیں تو پھر رمضان کی ساری مشق بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ عید دراصل اس بات کا امتحان ہے کہ ہم نے رمضان سے کیا سیکھا اور اسے اپنی زندگی میں کس حد تک شامل کیا۔

جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں بہت سے لوگ مختلف سماجی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، عید کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں ایسے بے شمار گھرانے ہیں جو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر صاحبِ حیثیت افراد اپنی خوشیوں کا کچھ حصہ ان کے ساتھ بانٹیں تو یہ نہ صرف ایک دینی فریضہ ہوگا بلکہ ایک انسانی تقاضا بھی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خوشی کا تعلق وسائل سے زیادہ احساس سے ہوتا ہے۔ ایک سادہ لباس، ایک معمولی کھانا اور ایک چھوٹی سی عیدی بھی کسی کے لیے بڑی خوشی کا سبب بن سکتی ہے، اگر اس کے پیچھے خلوص اور محبت ہو۔ اس کے برعکس، بے تحاشا خرچ اور دکھاوے کی خوشی اکثر عارضی اور کھوکھلی ثابت ہوتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عید کا پیغام توازن کا پیغام ہے۔ اسلام نہ تو خوشی منانے سے روکتا ہے اور نہ ہی اچھا پہننے اور کھانے سے منع کرتا ہے، بلکہ وہ اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری خوشی میں دوسروں کا بھی حصہ ہو۔

معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری کے اس دور میں عید جیسے مواقع ہمیں ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ ہم اس فرق کو کچھ حد تک کم کر سکیں۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت فرد صرف ایک یا دو ضرورت مند خاندانوں کی ذمہ داری لے لے تو عید کا منظر ہی بدل سکتا ہے۔

یہ کام مشکل نہیں، صرف نیت اور توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سبق دینا ہوگا کہ عید صرف لینے کا نہیں بلکہ دینے کا دن بھی ہے۔ اگر ہم انہیں شروع سے ہی یہ سکھائیں کہ اپنی عیدی کا کچھ حصہ کسی ضرورت مند کے ساتھ بانٹنا ہے، تو یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی اور ایک بہتر معاشرہ تشکیل پائے گا۔

میڈیا اور سماجی حلقوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عید کے موقع پر صرف خریداری اور فیشن کو ہی اجاگر نہ کریں بلکہ اس کے اصل پیغام—ہمدردی، مساوات اور سماجی انصاف—کو بھی نمایاں کریں۔ جب تک ہم اجتماعی سطح پر اپنی ترجیحات کو درست نہیں کریں گے، عید کی اصل روح دھندلی ہوتی رہے گی۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عید الفطر دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی ذات اور اپنے معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ دن ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں—کیا ہم واقعی اس خوشی کے مستحق ہیں اگر ہمارے اردگرد لوگ محرومی کا شکار ہوں؟ کیا ہماری خوشی مکمل ہو سکتی ہے اگر ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا ہو؟

شاید عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں، اپنے دلوں کو وسیع کریں اور ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں ہر فرد کو عزت، محبت اور خوشی میسر ہو۔

اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں، تو عید صرف ایک دن کا تہوار نہیں رہے گی بلکہ ایک مستقل طرزِ زندگی بن جائے گی—ایسا طرزِ زندگی جس میں انسانیت، ہمدردی اور مساوات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

تبھی عید واقعی عید بنے گی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 بھکاری بننے کی دیر ہے

Next Post

ریاسی میں سڑک حادثہ  دو افراد جاں بحق، چار زخمی

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
گاندربل میں موٹر سائیکل کی   ٹکر سے راہگیر جاں بحق، ایک زخمی

ریاسی میں سڑک حادثہ  دو افراد جاں بحق، چار زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.