(یو این آئی اسپیشل)
آر سوریہ مورتی
نئی دہلی، 18 مارچ (یو این آئی) جب ہندوستان نے ستمبر کے بعد اپنے جی ایس ٹی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی متعارف کرائی تھی، تو وعدہ سادہ تھا: ٹیکس کم کریں، قیمتیں گھٹائیں اور اخراجات کو فروغ دیں۔ چھ ماہ بعد، یہ تصور بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے بجائے، ہم ایک غیر مساوی اور کچھ حد تک غیر آرام دہ حقیقت روشناس ہو رہے ہیں۔ ٹیکس کٹوتیوں کے فوائد روزمرہ کی ضروری اشیاء کے بجائے مہنگی اور پرتعیش اشیاء کے حق میں زیادہ نظر آتے ہیں۔
ابتدائی اعداد و شمار قیمتوں میں کسی بڑے پیمانے پر کمی کی نشاندہی نہیں کرتے۔ حقیقت میں، صورتحال منقسم ہے؛ خوراک، ذاتی نگہداشت اور گھریلو سامان جیسی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ گاڑیوں، اے سی اور دیگر برقی آلات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔
سچیدانندمکھرجی اور شیوانی بڈولا کے تحریرکردہ ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی’ (این آئی پی ایف پی ) کے ایک حالیہ مقالے میں اس فرق کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔ 22 ستمبر 2025 سے جی ایس ٹی کا نظام چارزمروں (5%، 12%، 18%، 28%) سے بدل کر تین زمروں (5%، 18%، 40%) پر مشتمل ایک سادہ نظام میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ بہت سی اشیاء کو 5 فیصد والے سب سے کم درجے میں منتقل کیا گیا، جس سے اس زمرے کی اشیاء کی تعداد 40 سے بڑھ کر 100 سے زیادہ ہو گئی۔ توقع تھی کہ اس سے قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
تاہم، کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) ایک مختلف حقیقت بیان کرتا ہے۔ دودھ، گھی اور پنیر جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ چاکلیٹ، نوڈلز اور مصالحہ جات جیسی پروسیسڈ فوڈز بھی ٹیکس کٹوتیوں کے باوجود مہنگے ہو گئے ہیں ۔ میوہ جات کی قیمتوں میں تو مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ بسکٹ اور مکھن جیسی چند چیزوں کی قیمتوں میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن یہ مجموعی رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
یہی صورتحال ذاتی نگہداشت کی اشیاء میں بھی ہے۔ ہیئر آئل، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ اور صابن—جو روزمرہ کی ضرورت ہیں—ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس، ایئر کنڈیشنرز اور گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ کاروں اور موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں ہونے والی یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ زیادہ قیمت والی اشیاء میں ٹیکس کٹوتی کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچ رہا ہے۔
یہ صورتحال گہری عدم مساوات کو اجاگر کرتی ہے۔ وہی نظام جو دودھ یا صابن کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہا، گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے میں بہت موثر ثابت ہو رہا ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ جہاں ٹیکس کی شرح بڑھی ہے، وہاں قیمتیں فوری طور پر اوپر چلی گئی ہیں، جیسے کہ ہوائی جہاز کے کرائے۔
طبی شعبے میں بھی ادویات کی قیمتیں بڑھی ہیں، حالانکہ کچھ طبی آلات سستے ہوئے ہیں۔ یہ تمام رجحانات ایک ساختی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ضروری اشیاء کے لیے، جہاں صارفین اپنی خریداری کم نہیں کر سکتے ، وہاں پروڈیوسرز قیمتیں کم کرنے کے بجائے ٹیکس کی بچت کو اپنے منافع میں شامل کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پرتعیش اشیاء کی مارکیٹ میں مقابلہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے وہاں قیمتیں تیزی سے گرتی ہیں۔
این آئی پی ایف پی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ابتدائی علامات مارکیٹ کی حکمت عملیوں اور غیر مساوی مقابلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ ایک مشکل سوال ہے؛ اگر جی ایس ٹی 2.0 کا مقصد قوتِ خرید بڑھانا تھا، تو ضروری اشیاء پر اس کے محدود اثرات اس مقصد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کسی بھی گھرانے کے لیے معاشی سکون کا تعین روزمرہ کے اخراجات سے ہوتا ہے، اور اس محاذ پر جی ایس ٹی 2.0 اب تک اپنے وعدوں سے کم تر ثابت ہوا ہے۔










