جمعرات, جولائی 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے خلیج کی آبی حیات اور پرندوں کو خطرہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-19
in عالمی خبریں
A A
شام؛ گرجا گھر میں راکٹ حملے میں 2 افراد ہلاک اور 12 زخمی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

لندن، 18 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں بلکہ آبی حیات اور پرندوں کو بھی خطرہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی اور سمندری ٹریفک کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھا۔
برطانوی فلاحی ادارے کنفلیکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کی جانب سے 10 مارچ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد خطے میں ماحولیاتی خطرات سے متعلق 300 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں آئل ٹینکرز پر حملے بھی شامل ہیں۔
اوسطاً 50 میٹر گہرا خلیج فارس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحر ہند سے جڑا ہوا ہے اور اس کا یہ جغرافیہ اس کے ماحولیاتی نظام کو کمزور بناتا ہے۔
خلیج فارس میں پانی کی سست تجدید، ہر 2 سے 5 سال میں تیل یا دیگر مختلف اقسام کی آلودگی کے پھیلاؤ کو محدود کرتی ہے۔
یہ خطہ ڈوگونگز کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جنہیں ’سمندری گائے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ڈوگونگز کی تعداد اس وقت 5 ہزار سے 7 ہزار 500 کے درمیان ہے۔
خلیج فارس میں دیگر مختلف آبی حیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ہمپ بیک وہیل اور وہیل شارک بھی شامل ہیں۔
خلیج فارس کے گرم پانیوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد سمندری انواع موجود ہیں، جن میں مچھلیوں کی 500 سے زیادہ اقسام اور سمندری کچھوؤں کی 5 اقسام شامل ہیں۔
سمندری کچھوؤں کی اقسام میں ہاکس بل سمندری کچھوؤں کو شدید خطرہ ہے۔
خلیج فارس میں مرجان کی تقریباً 100 انواع بھی موجود ہیں، جو مینگرووز اور سمندری گھاس کے ساتھ مل کر مچھلیوں اور کرسٹیشینز کے لیے ضروری افزائش اور نرسری کی بنیاد بناتے ہیں۔
یکم مارچ سے اب تک یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کو آئل ٹینکرز پر حملوں سمیت 9 مختلف واقعات کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں سے 8 کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے تصدیق بھی کی ہے۔
علاوہ ازیں 3 حملوں کی ذمے داری تو خود پاسدارنِ انقلاب نے قبول کی ہے حالانکہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان تینوں حملوں میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی حملے ماحول اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہے ہیں، جو لوگوں کی صحت کے لیے طویل مدتی خطرات کا باعث ہے۔
کئی رپورٹس کے مطابق1991ء میں خلیجی جنگ کے دوران جب عراقی افواج نے کویت میں جان بوجھ کر تیل کے والوز کھولے اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا تو 11 ملین بیرل تیل سمندر کے پانی میں پھیل گیا، جس نے 640 کلومیٹر سعودی ساحلی پٹی کو آلودہ کیا اور 30 ہزار سے زیادہ سمندری پرندے مارے گئے۔
خلیجی جنگ کے بعد اس صورتِ حال کو معمول پر آنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔
صرف تیل سے سمندر میں پیدا ہونے والی آلودگی ہی نہیں بلکہ بم دھماکوں کی خوفناک آوازیں بھی سمندری پرندوں کے لیے خطرناک ہیں۔
جزیرہ نما عرب یورپ، وسطی ایشیاء، افریقا اور جنوبی ایشیاء کو آپس میں جوڑنے والے بڑے ہجرت کے راستوں کے سنگم پر موجود ہے، اس لیے جنگوں کے دوران دھماکوں کا شور اور زہریلا دھواں سمندری پرندوں کی نقل مکانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں سمندری بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکہ خیز آلات آبی حیات اور سمندر کے اندر قدرتی ڈھانچے جیسے کہ چٹانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2003ء اور 2020ء میں نیچر اور رائل سوسائٹی جریدے میں شائع ہونے والی 2 تحقیقات کے نتائج میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکا خیز آلات کے استعمال کی وجہ سے آبی حیات کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

‘روس کی ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تردید

Next Post

جی ایس ٹی 2.0: ٹیکسوں میں کٹوتی، لیکن راشن کے بلوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

اسرائیل ہماری دفاعی صلاحیتوں سے متعلق ایک خیالی خطرہ گھڑ رہا ہے : ایران
عالمی خبریں

ہم نے اردن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا:آئی آر جی سی

2026-07-21
ایران ایک ہی ہفتے تک رویہ بہتر رکھ کر معاہدے کی پاسداری کر سکا، جی ڈی وینس
عالمی خبریں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اہلیہ اوشا وینس کے ہاں چوتھے بچے کی پیدائش

2026-07-21
جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے ، کوئی نقصان نہیں
عالمی خبریں

مغربی ایران میں 5.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

2026-07-21
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم، خام تیل 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
عالمی خبریں

تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

2026-07-21
سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے، ایران کا دعویٰ
عالمی خبریں

حالیہ امریکی حملوں میں 30 شہری شہید ہوئے: ایران

2026-07-16
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں نافذ
عالمی خبریں

ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ مکمل کر لیا: امریکی فوج

2026-07-16
غزہ؛ اسرائیل کی بمباری میں تاریخی مسجد ’العمری الکبیر‘ شہید
عالمی خبریں

جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں، ایک ہی خاندان کے 4 افراد شہید

2026-07-16
میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ مذاکرات میں رکاوٹ‘
عالمی خبریں

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

2026-07-14
Next Post
مسلسل 13ویں مہینے جی ایس ٹی کی وصولی ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ

جی ایس ٹی 2.0: ٹیکسوں میں کٹوتی، لیکن راشن کے بلوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.