جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے خلیج کی آبی حیات اور پرندوں کو خطرہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-19
in عالمی خبریں
A A
شام؛ گرجا گھر میں راکٹ حملے میں 2 افراد ہلاک اور 12 زخمی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

حوثیوں اور یمنی فورسز کے درمیان شدید لڑائی، ہر محاذ کیوں اہم ہے؟

انڈونیشیا میں صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی

لندن، 18 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں بلکہ آبی حیات اور پرندوں کو بھی خطرہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی اور سمندری ٹریفک کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھا۔
برطانوی فلاحی ادارے کنفلیکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کی جانب سے 10 مارچ کو جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد خطے میں ماحولیاتی خطرات سے متعلق 300 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں آئل ٹینکرز پر حملے بھی شامل ہیں۔
اوسطاً 50 میٹر گہرا خلیج فارس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحر ہند سے جڑا ہوا ہے اور اس کا یہ جغرافیہ اس کے ماحولیاتی نظام کو کمزور بناتا ہے۔
خلیج فارس میں پانی کی سست تجدید، ہر 2 سے 5 سال میں تیل یا دیگر مختلف اقسام کی آلودگی کے پھیلاؤ کو محدود کرتی ہے۔
یہ خطہ ڈوگونگز کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جنہیں ’سمندری گائے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ڈوگونگز کی تعداد اس وقت 5 ہزار سے 7 ہزار 500 کے درمیان ہے۔
خلیج فارس میں دیگر مختلف آبی حیات بھی پائی جاتی ہیں، جن میں ہمپ بیک وہیل اور وہیل شارک بھی شامل ہیں۔
خلیج فارس کے گرم پانیوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد سمندری انواع موجود ہیں، جن میں مچھلیوں کی 500 سے زیادہ اقسام اور سمندری کچھوؤں کی 5 اقسام شامل ہیں۔
سمندری کچھوؤں کی اقسام میں ہاکس بل سمندری کچھوؤں کو شدید خطرہ ہے۔
خلیج فارس میں مرجان کی تقریباً 100 انواع بھی موجود ہیں، جو مینگرووز اور سمندری گھاس کے ساتھ مل کر مچھلیوں اور کرسٹیشینز کے لیے ضروری افزائش اور نرسری کی بنیاد بناتے ہیں۔
یکم مارچ سے اب تک یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کو آئل ٹینکرز پر حملوں سمیت 9 مختلف واقعات کی اطلاع دی گئی ہے، جن میں سے 8 کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے تصدیق بھی کی ہے۔
علاوہ ازیں 3 حملوں کی ذمے داری تو خود پاسدارنِ انقلاب نے قبول کی ہے حالانکہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان تینوں حملوں میں سے کسی ایک کی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران میں ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی حملے ماحول اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہے ہیں، جو لوگوں کی صحت کے لیے طویل مدتی خطرات کا باعث ہے۔
کئی رپورٹس کے مطابق1991ء میں خلیجی جنگ کے دوران جب عراقی افواج نے کویت میں جان بوجھ کر تیل کے والوز کھولے اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا تو 11 ملین بیرل تیل سمندر کے پانی میں پھیل گیا، جس نے 640 کلومیٹر سعودی ساحلی پٹی کو آلودہ کیا اور 30 ہزار سے زیادہ سمندری پرندے مارے گئے۔
خلیجی جنگ کے بعد اس صورتِ حال کو معمول پر آنے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔
صرف تیل سے سمندر میں پیدا ہونے والی آلودگی ہی نہیں بلکہ بم دھماکوں کی خوفناک آوازیں بھی سمندری پرندوں کے لیے خطرناک ہیں۔
جزیرہ نما عرب یورپ، وسطی ایشیاء، افریقا اور جنوبی ایشیاء کو آپس میں جوڑنے والے بڑے ہجرت کے راستوں کے سنگم پر موجود ہے، اس لیے جنگوں کے دوران دھماکوں کا شور اور زہریلا دھواں سمندری پرندوں کی نقل مکانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
علاوہ ازیں سمندری بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکہ خیز آلات آبی حیات اور سمندر کے اندر قدرتی ڈھانچے جیسے کہ چٹانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
2003ء اور 2020ء میں نیچر اور رائل سوسائٹی جریدے میں شائع ہونے والی 2 تحقیقات کے نتائج میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکا خیز آلات کے استعمال کی وجہ سے آبی حیات کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

‘روس کی ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی تردید

Next Post

جی ایس ٹی 2.0: ٹیکسوں میں کٹوتی، لیکن راشن کے بلوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

حوثیوں اور یمنی فورسز کے درمیان شدید لڑائی، ہر محاذ کیوں اہم ہے؟
عالمی خبریں

حوثیوں اور یمنی فورسز کے درمیان شدید لڑائی، ہر محاذ کیوں اہم ہے؟

2026-09-11
انڈونیشیا میں صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی
عالمی خبریں

انڈونیشیا میں صحافیوں کو لے جانے والی کشتی لاپتہ ہو گئی

2026-09-11
ہانگ کانگ کی عدالت نے صحافی کو یونین عہدہ سنبھالنے سے روکنے کی کوشش پر ڈاؤ جونز کو قصوروار قرار دیا
عالمی خبریں

ہانگ کانگ کی عدالت نے صحافی کو یونین عہدہ سنبھالنے سے روکنے کی کوشش پر ڈاؤ جونز کو قصوروار قرار دیا

2026-09-11
یمن میں لڑائی تیز، حوثی حملوں سے سعودی عرب میں ہائی الرٹس
عالمی خبریں

یمن میں لڑائی تیز، حوثی حملوں سے سعودی عرب میں ہائی الرٹس

2026-09-11
عالمی خبریں

روسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ

2026-09-11
عالمی خبریں

فلپائن میں فیری میں آگ لگنے سے پانچ افراد ہلاک اور 80 سے زائد لاپتہ

2026-09-11
امریکہ نے ایرانی ٹینکر ڈبو دیا، ایران نے اردن کے ایئربیس پر میزائل داغے
عالمی خبریں

امریکہ نے ایرانی ٹینکر ڈبو دیا، ایران نے اردن کے ایئربیس پر میزائل داغے

2026-09-10
جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان
عالمی خبریں

جب تک حملہ آور پشیمان نہیں ہوتے ایران مزاحمت جاری رکھے گا: پزشکیان

2026-09-10
Next Post
مسلسل 13ویں مہینے جی ایس ٹی کی وصولی ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ

جی ایس ٹی 2.0: ٹیکسوں میں کٹوتی، لیکن راشن کے بلوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.