کیف، 10 ستمبر (یو این آئی) یوکرین کے حکام کے مطابق روسی افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب کیف نے ایک ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں روس کے آرکٹک خطے میں واقع ایک قدرتی گیس پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات جنوبی یوکرین کے میکولائیف شہر میں روسی حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شمال مشرقی شہر سومی میں ایک شاپنگ سینٹر پر ڈرون حملے میں تین افراد مارے گئے۔
میکولائیف کے قائم مقام گورنر ہیورہی ریشیتیلوف نے کہا کہ روسی حملوں میں شہری اور صنعتی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو مرد اور دو خواتین ہلاک ہوئے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ کم از کم 19 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
سومی کے علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیہ ہریہوروو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 14 افراد زخمی ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
روس کی وزارت دفاع نے میکولائیف میں حملے کی تصدیق کی، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف ڈرون کا ایک گودام تھا۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ اسود میں یوکرین کی بندرگاہ چورنومورسک اور اوڈیسا کے قریب دو بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، انہیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روسی حکام نے بتایا کہ یوکرینی فورسز نے یامال-نینیتس خطے پر ڈرون حملہ کیا ہے، جو یوکرین کی سرحد سے تقریباً 2,800 کلومیٹر (1,700 میل) دور واقع ہے۔
خطے کے گورنر دمتری آرتیوخوف نے بتایا کہ حملے کا ہدف نووی یورینگوئی میں ایک صنعتی تنصیب تھی۔ ان کے مطابق حملے کو ناکام بنا دیا گیا، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے وہاں آگ لگ گئی۔
انہوں نے مزید کہا، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔ نقصان کی نوعیت اور شدت کا تعین کیا جا رہا ہے۔‘‘
کریملن کے یورال خطے کے نمائندے آرتیم ژوگا نے کہا کہ بدھ کے روز ہونے والا حملہ اس خطے کے آرکٹک حصے کو نشانہ بنانے والا اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔
یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز (ایس او ایف) نے ایکس پر متعدد پوسٹس کے ذریعے حملے کی تصدیق کی۔
فورسز نے کہا، ’’پہلی بار! جنگ کا سب سے گہرا حملہ: یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسز نے 3,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع روسی اہم صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘‘
یوکرینی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اس نے نووی یورینگوئی اور پورووسکی کے دو گیس پلانٹس کو ’’کامیابی سے نشانہ‘‘ بنایا۔
انہوں نے کہا، ’’آج تک اس علاقے کو جارح ملک کے لیے ایک محفوظ عقبی علاقہ تصور کیا جاتا تھا۔‘‘
یوکرینی فورسز کے مطابق مذکورہ تنصیبات روس کی گیس صنعت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یامال خطے کے مختلف گیس فیلڈز سے حاصل ہونے والی بڑی مقدار میں گیس کنڈینسیٹ کو پراسیس کرتی ہیں۔ ان تنصیبات میں سالانہ لاکھوں ٹن کنڈینسیٹ کی پروسیسنگ کی جاتی ہے۔
روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپروم 2022 میں یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد روس اور مغربی ممالک کے تعلقات خراب ہونے تک یامال سے مغربی یورپ تک گیس برآمد کرتی رہی تھی۔
گیز کے مطابق 2020 تک اس خطے میں گیس کے ذخائر کا تخمینہ 26.5 ٹریلین مکعب میٹر تھا، جو عالمی طلب کو چھ سال سے زیادہ عرصے تک پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
یوکرین نے حالیہ مہینوں کے دوران روس کے اندر دور تک مار کرنے والے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ یہ حملے یوکرینی قصبوں اور شہروں پر روس کی روزانہ کی بمباری کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ جنگ کے دوران یوکرینی ڈرون روسی فضائی حدود کو ’’مکمل طور پر غیر محفوظ‘‘ بنا دیں گے۔








