واشنگٹن، 9 ستمبر (یو این آئی) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے پانچ خام تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے کم از کم ایک جہاز ڈوب گیا۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
ان حملوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کی جانب میزائلوں کی بوچھاڑ کی، جہاں امریکہ اہم فوجی تنصیب موافق السلتی ایئربیس چلاتا ہے۔
امریکی فورسز نے کہا کہ اس نے 8 ستمبر کو ایران کے پانچ خام تیل بردار جہاز تباہ کیے۔ ان میں خلیج عمان میں ایم/ٹی کاویز، ایم/ٹی چارمینار، ایم/ٹی ہورائزن 1 اور ایم/ٹی ریسکو جبکہ ایران کی تیل برآمدات کے اہم مرکز خارک جزیرے کے قریب ایم/ٹی دریا شامل تھا۔
سینٹ کام نے کہا، ’’ایران کے حالیہ ناکام حملوں کے جواب میں سینٹ کام نے آئی آر جی سی کے خام تیل بردار جہاز ایم/ٹی کاویز، ایم/ٹی چارمینار، ایم/ٹی ہورائزن 1 اور ایم/ٹی ریسکو کو خلیج عمان میں، جبکہ ایم/ٹی دریا کو خارک جزیرے کے قریب تباہ کردیا۔ امریکی فورسز نے جہازوں کو نشانہ بنانے سے قبل ان کے عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی اور اس کے بعد جہازوں کو ناکارہ بنا دیا۔‘‘
امریکی فوج نے کہا کہ ایرانی جہاز ایک ایسے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے جس کے ذریعے مبینہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے آمدنی حاصل کی جاتی تھی۔
سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا، ’’ایران نے ان ٹینکروں کو کئی ارب ڈالر کے ایک خفیہ نیٹ ورک کے حصے کے طور پر استعمال کیا ہے جو آئی آر جی سی اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ ایران کے پاس ان جہازوں کے دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔‘‘
سینٹ کام کے مطابق حملوں سے قبل جہازوں کے عملے کو انہیں چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ دو جہازوں کے عملے کو لائف بوٹس کے ذریعے ساحل پر پہنچایا گیا۔
یہ حملے ایران کی جانب سے دو روز کے دوران بیلسٹک میزائلوں سے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کو دو مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کیے گئے۔ سینٹ کام نے کہا کہ امریکی جہاز نے دونوں حملوں سے کامیابی سے بچنے کے بعد خطے کے پانیوں میں گشت جاری رکھا۔ اس نے کہا کہ ’’کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔‘‘
ایران نے ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن کے موافق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا۔ اردن کی فوج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 20 بیلسٹک میزائلوں کو روکا، جن میں سے 18 کو تباہ کردیا گیا۔ اردن کی مسلح افواج کے مطابق دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔
اس حملے سے جاری تنازع کا جغرافیائی دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوگیا ہے۔
شپنگ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کمپنی میریسکس نے کہا کہ اردن پر حملہ ’’ایرانی فوجی سرگرمیوں کے براہ راست دائرے میں نمایاں جغرافیائی توسیع کی نمائندگی کرتا ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کے اہم فریقوں سے باہر بھی اس کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔‘‘
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایران امور کے سینئر تجزیہ کار حمید رضا عزیزی نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں پر ایران کی جانب سے بار بار حملے کی کوششیں اور امریکی اہداف پر داغے جانے والے میزائلوں کی ’’معیار اور تعداد‘‘ میں اضافہ ’’بتدریج کشیدگی میں اضافے کے رجحان‘‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو امریکی بحری جہازوں اور تیل کے آٹھ ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت کی بندرگاہوں کے قریب موجود تیل بردار جہازوں کے عملے کو اپنے جہاز چھوڑنے کی وارننگ دیتے ہوئے مزید حملوں کی دھمکی دی۔
ایرانی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے کہا، ’’ہم کویت اور بحرین کی بندرگاہوں کے قریب موجود تمام تیل بردار جہازوں کے عملے کو خبردار کرتے ہیں، جو ان (امریکی) دہشت گردوں کی میزبانی کرتے ہیں اور ان کی دشمنانہ کارروائیوں میں شریک ہیں، کہ وہ فوری طور پر اپنے جہاز چھوڑ دیں، خواہ وہ لنگر انداز ہوں یا بندرگاہوں پر کھڑے ہوں، کیونکہ ان جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘
ایرانی سرکاری میڈیا نے آج رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو امریکی بحری جہازوں، آٹھ تیل بردار ٹینکروں اور 10 ’’احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے جہازوں‘‘ پر حملہ کیا۔
اگر ایران کی جانب سے علاقائی بندرگاہوں کے اندر موجود ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، بجائے ان جہازوں کے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو یہ تنازع میں ایک نئی پیش رفت ہوگی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کولمبیا کے دورے کے دوران خبردار کیا کہ امریکہ کی بحری افواج پر مزید ایرانی حملوں کا واشنگٹن جواب دے گا۔
روبیو نے بیرنکیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے، اور جب بھی وہ ایسا کریں گے یا ایسا کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں ٹینکرز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘
حملوں کا یہ تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ تہران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔ امریکی فورسز نے ایران کی تیل برآمدات اور آبنائے ہرمز کے اطراف کی کارروائیوں سے منسلک اہداف پر توجہ بڑھا دی ہے، جبکہ تجارتی جہاز رانی کے لیے حفاظتی کارروائیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ہوا بازی کے شعبے پر وسیع پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت 27 ایرانی ایئرلائنز اور نو سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور سیلز ایجنٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ماہان ایئر کو خدمات فراہم کیں۔ ماہان ایئر 2011 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ واشنگٹن نے اس نجی ایئرلائن پر آئی آر جی سی کو معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔








