واشنگٹن، 9 ستمبر (یو این آئی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امید ہے کہ کولمبیا، پیرو اور ایکواڈور کے ساتھ جلد تجارتی معاہدے طے پاجائیں گے، کیونکہ واشنگٹن لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کے اتحادیوں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
روبیو نے منگل کو کولمبیا کے شہر بیرنکیلا میں صدر ابیلاردو دے لا اسپریئیا سے ملاقات کی۔ یہ ان کے تین ملکی دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اتحادی حکومتوں کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی شمولیت کو وسعت دینا ہے۔
روبیو نے روانگی سے قبل ان تینوں ممالک کے بارے میں کہا، ”علاقائی سطح پر سرحد پار منظم جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی روابط کے حوالے سے بھی ہمارے مفادات مشترک ہیں۔ یہ مغربی نصف کرہ میں امریکہ اور امریکی مفادات کے ساتھ ہم آہنگی کے اس رجحان کا حصہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔”
کولمبیا کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ رواں ہفتے ایکواڈور اور پیرو کا بھی دورہ کریں گے، جہاں وہ بالترتیب صدر ڈینیئل نوبوا اور صدر کیکو فوجیموری سے ملاقات کریں گے۔
کولمبیا روانگی سے قبل روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن مستقبل قریب میں تینوں ممالک کے ساتھ ”اچھے اور مضبوط” تجارتی معاہدے کرنا چاہتا ہے۔
یہ سفارتی دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ لاطینی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔
مثال کے طور پر چین نے 2009 میں پیرو کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جنوبی امریکی ملک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ”ڈونرو ڈاکٹرائن” کے غیر رسمی نام سے موسوم پالیسی کے تحت پورے مغربی نصف کرہ پر زیادہ کنٹرول کے لیے بھی کوششیں تیز کردی ہیں۔
اس کوشش کا مرکزی نکتہ سلامتی رہا ہے۔ دوسری مرتبہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے وینزویلا، مشرقی بحرالکاہل اور بحیرۂ کیریبین میں مہلک فوجی کارروائیوں کی منظوری دی ہے، جنہیں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔
دے لا اسپریئیا نے اگست میں عہدہ سنبھالا تھا اور جرائم اور مسلح گروہوں کے خلاف فوجی طریقۂ کار دوبارہ اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو ٹرمپ کی ترجیحات سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا بھی عہد کیا ہے، خصوصاً سابق صدر گسٹاوو پیٹرو کے ساتھ ٹرمپ کے تنازعات کے بعد۔ پیٹرو کولمبیا کے پہلے منتخب بائیں بازو کے صدر تھے۔








