صنعا، (یمن) 10 ستمبر (یو این آئی) اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ یمنی حکومت اور حوثی گروپ ملک کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں میں متعدد محاذوں پر شدید لڑائی میں جنگی طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کر رہے ہیں۔
امدادی اداروں کے مطابق طائز، مغربی ساحلی علاقے، الجوف، مآرب اور الضالع کے بعض علاقوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں کم از کم 194 افراد ہلاک اور 880 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے جمعرات کو مبینہ طور پر مغربی ساحل پر واقع موخا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد اسے بحیرہ احمر میں ایک اہم اڈہ حاصل ہوگیا۔ بحیرہ احمر عالمی جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
حکومتی فورسز طائز میں اپنی پیش قدمی اور شمالی علاقے مآرب پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو تیل پیدا کرنے والا اہم خطہ ہے۔
سعودی عرب کی سرحد سے متصل الجوف گورنریٹ اور الضالع میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ الضالع حوثیوں کے زیرِ قبضہ شمالی علاقوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے زیرِ انتظام جنوبی علاقوں سے ملاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی اہم محاذ پر کسی فریق کی کامیابی یا شکست کے دوسرے فریق کے لیے نمایاں نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
صنعا سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ریسرچ مینیجر یزید الجداوی نے کہا، ’’طائز اور مغربی ساحل کے پہاڑی اور بلند علاقے حوثیوں کے لیے اہم اہداف ہیں، جہاں وہ بارہا پیش قدمی کی کوشش کر چکے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حوثی ’’اہم بلند مقامات پر قبضہ، ساحلی موخا ضلع اور طائز کے درمیان رسد کے راستے منقطع کرنے اور مغربی ساحل پر موجود حکومتی فوجیوں کو طائز ملٹری ایکسس کے ساتھ رابطہ قائم کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
الجداوی کے مطابق طائز اور مغربی ساحل پر فوری مقابلہ ان بلند مقامات اور سڑکوں پر قبضے کے لیے ہے جو طائز کو موخا سے ملاتی ہیں۔
باب المندب آبنائے سے تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع موخا بحیرہ احمر پر انتہائی اہم تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ ماہ شہر پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن میں بندرگاہ کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ گروپ نے موخا شہر کی جانب زمینی کارروائیاں بھی بڑھا دی تھیں۔
الجداوی نے حوثیوں کے موخا پر مبینہ قبضے سے قبل کہا تھا، ’’حوثی موخا کے گرد اپنی گرفت مضبوط کرنے اور ضباب-باب المندب کے علاقے کے قریب پہنچنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
ان کے مطابق بڑی پیش قدمی سے جنوبی بحیرہ احمر کے داخلی راستے کے قریب حوثیوں کی پوزیشن مضبوط ہوگی اور انہیں بین الاقوامی جہاز رانی پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوجائے گا۔
یمنی سیاسی تجزیہ کار اور مصنف فواد مسعد نے الجزیرہ کو بتایا کہ مغربی ساحل اور طائز کے محاذوں کی تزویراتی اہمیت باب المندب سے قربت کے باعث ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔مسعد نے کہا، ’’حوثی اس اہم آبی گزرگاہ کے قریب پہنچ کر بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز اور باب المندب کو ایران کے زیرِ اثر رکھنا اور انہیں علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کے خلاف دباؤ کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تہران کئی برس سے یہی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔‘‘
ایران نے امریکہ کے خلاف جنگ میں دباؤ کے لیے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ اس نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اس کے اتحادی باب المندب کے راستے بحری آمدورفت بند کرسکتے ہیں۔ ایران نے سعودی عرب کی اس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا جو بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
جولائی میں حوثیوں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے سعودی بحری جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ بحیرہ احمر آبنائے ہرمز کا ایک متبادل بحری راستہ ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت نواز فورسز نے مآرب اور الجوف میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں حوثیوں کی جانب سے جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
یمنی سیاسی مبصر صدام الحریبی نے کہا کہ مآرب کا محاذ دونوں فریقوں کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے الجزیرہ کو بتایا، ’’مآرب شمالی یمن میں حکومت کا مضبوط گڑھ ہے۔ لہٰذا مآرب میں حوثیوں کی توسیع شمال میں حکومتی موجودگی کو خطرے میں ڈال دے گی اور اس کے اثر و رسوخ کو کمزور کرے گی۔ اسی لیے حکومت نواز فوجی اس محاذ پر پوری قوت سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
حوثیوں کے لیے مآرب پر قبضہ ان کے اختیار کو مزید مضبوط کرنے اور تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول کی جانب ایک قدم ہوگا۔ ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے 2014 میں دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، تاہم مآرب اب تک حکومت کے کنٹرول میں رہا ہے۔
الحریبی نے کہا، ’’مآرب کے تیل اور گیس کے وسائل پر غلبہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حوثیوں کا ہدف رہا ہے۔ مآرب میں فیصلہ کن شکست کا سامنا کیے بغیر وہ اس مقصد کے حصول کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘‘
مآرب سے متصل الجوف بھی حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز ہے۔ حکومت کی کامیابی سے مزید پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ حوثیوں کی مضبوط دفاعی پوزیشن حکومتی فورسز کے حوصلے پست کرکے انہیں پسپائی پر مجبور کرسکتی ہے۔







