اتوار, جون 7, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-14
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

            جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر گزشتہ دنوں ہونے والا قاتلانہ حملہ نہ صرف ایک سنجیدہ واقعہ ہے بلکہ اس نے خطے کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے بارے میں کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ حملہ ایک شادی کی تقریب کے دوران اُس وقت ہوا جب ڈاکٹر فاروق عبداللہ تقریب سے رخصت ہو رہے تھے اور اچانک ایک شخص نے ان پر پستول سے فائرنگ کر دی۔ اگرچہ سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا اور حملہ آور کو فوراً قابو میں کر لیا گیا، تاہم اس واقعہ نے سکیورٹی کے نظام میں موجود ممکنہ کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

            ڈاکٹر فاروق عبداللہ جموں و کشمیر کی سیاست کی ایک انتہائی اہم اور بااثر شخصیت ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ان پر قاتلانہ حملہ ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ جمہوری سیاست کے ماحول پر حملہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے، لیکن اگر خدانخواستہ گولی انہیں لگ جاتی تو اس کے سیاسی اور سماجی اثرات نہایت سنگین ہو سکتے تھے۔

متعلقہ

کیا ہمارے نجی اسکول بہتر انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

            یہ واقعہ اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو زیڈ پلس سکیورٹی فراہم ہے، جو ملک میں کسی بھی شخصیت کو دی جانے والی اعلیٰ ترین سکیورٹی میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ایک شخص کا ذاتی پستول کے ساتھ ان کے قریب پہنچ جانا اور فائرنگ کرنے کی کوشش کرنا یقیناً سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خود بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ شادی کی اس تقریب میں بڑی تعداد میں اہم شخصیات موجود تھیں، اس کے باوجود پولیس کی طرف سے کوئی خاص حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس پہلو کی سنجیدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔

            مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے اس واقعہ کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے فون پر رابطہ کرنا اور مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرانا ایک مثبت قدم ہے۔ حکومت ہند نے اس واقعہ کے بعد این ایس جی کی فراہم کردہ سکیورٹی کا سکیورٹی آڈٹ کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس سے امید کی جا رہی ہے کہ نہ صرف اس واقعہ کے محرکات سامنے آئیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ سکیورٹی میں کہاں اور کیسے کوتاہی ہوئی۔

            واقعہ کے فوری بعد جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی شناخت کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس نے دوران تفتیش یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی شخص کے ذہن میں اتنے طویل عرصے تک اس نوعیت کی دشمنی یا انتقام کا جذبہ موجود تھا۔ تاہم تفتیش مکمل ہونے تک اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

            ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ بیان بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھی اور نہ ہی کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق وہ حتیٰ کہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی نرمی اور محبت کا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات سے حیران ہیں کہ آخر حملہ آور کے دل میں ان کے خلاف اس قدر نفرت کیوں پیدا ہوئی۔

            اس واقعہ نے پارلیمنٹ میں بھی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہ دینے کے باعث سکیورٹی کا نظام کمزور ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ریاستی حکومت کے پاس امن و امان کی ذمہ داری ہوتی تھی تو اس نوعیت کے واقعات پیش نہیں آتے تھے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امن و امان کا نظام براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے پاس ہے، جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

            دوسری جانب حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں ہے۔ راجیہ سبھا میں قائد ایوان اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کے مطابق حملہ آور کے محرکات کا بھی پتہ لگایا جائے گا اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

            حقیقت یہ ہے کہ ایسے حساس واقعات کو سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے ان کے اسباب اور ممکنہ خطرات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ماضی میں بھی کئی سیاسی شخصیات اور عوامی نمائندوں کو دہشت گردی یا تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس پس منظر میں کسی بھی اہم سیاسی رہنما پر حملے کی کوشش کو معمولی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

            اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی معاشرے میں اگر برداشت اور رواداری کم ہو جائے تو اس کے اثرات سیاسی اور سماجی دونوں سطحوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جب یہ اختلافات نفرت اور تشدد کی شکل اختیار کر لیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

            ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہونے والا حملہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ سکیورٹی کے نظام کو ہر سطح پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ زیڈ پلس سکیورٹی جیسے انتظامات کے باوجود اگر کوئی شخص اس قدر قریب پہنچ سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں حفاظتی انتظامات میں خلا موجود ہے۔ اس خلا کو فوری طور پر دور کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا امکان کم سے کم ہو سکے۔

            اس واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات انتہائی اہم ہیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس حملے کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے اور سکیورٹی میں کس سطح پر کوتاہی ہوئی۔ اگر اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

            آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اس حملے میں محفوظ رہنا ایک خوش آئند بات ہے۔ تاہم اس واقعہ کو ایک وارننگ کے طور پر لینا چاہیے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ریل ٹریک اپ گریڈیشن کا 80 فیصد کام مکمل، 50 فیصد راستے نیم تیز رفتار آپریشنز کے لیے تیار ہیں: اشونی ویشنو

Next Post

غلطی….!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

کیا ہمارے نجی اسکول بہتر انسان بھی تیار کر رہے ہیں؟

2026-06-07
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

2026-06-06
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

غلطی....!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.