نئی دہلی، 12 مارچ (یو این آئی) حکومت نے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث پیدا ہوئی صورتحال کے پیش نظر سلنڈر اور پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی ایل پی جی پر دباؤ کم کرنے کے لیے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹوں میں مٹی کے تیل اور کوئلے کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ محدود تعداد میں تجارتی استعمال کے سلنڈروں کی بھی فراہمی کی جائے گی، جس کے لیے ریاستی حکومتوں کو ترجیحی بنیاد پر مستفید ہونے والوں کی فہرست تیار کرنی ہوگی۔
حکومت نے جمعرات کے روز ایک اور اہم فیصلے میں کہا کہ دیہی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ صرف 45 دن کے وقفے سے ہی کی جا سکے گی۔ اس سے پہلے شہری علاقوں کے لیے یہ مدت 25 دن مقرر کی گئی تھی۔ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ مغربی ایشیائی ممالک سے اب تک ایک لاکھ 30 ہزار ہندوستان شہری وطن واپس لوٹ چکے ہیں اور مختلف ممالک سے پروازیں جاری ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں پھنسے مختلف ممالک کے جہازوں پر 78 ہندوستان ملاح موجود تھے، جن میں سے 70 کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ چار زخمی ہیں، افسوسناک طور پر تین کی موت ہو گئی ہے اور ایک لاپتہ ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے دوران وہاں موجود ہندوستانیوں میں سے 20 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر علاج کے بعد گھر لوٹ آئے ہیں، جبکہ ایک دو کی حالت تشویشناک ہے۔
مختلف وزارتوں کے سینئر حکام نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر کہا کہ حکومت مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گیس اور پٹرول ڈیزل کی فراہمی مسلسل جاری ہے اور ملک کے کسی بھی حصے سے ان اشیاء کی کمی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ لوگ سلنڈر کی بکنگ میں جلد بازی نہ کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ ‘پورے ملک میں ہمارے تقریباً 25 ہزار ڈسٹری بیوٹر ہیں اور ہم روزانہ تقریباً 50 لاکھ سلنڈروں کی سپلائی کرتے ہیں’۔ تقسیم کے مرحلے پر بھی کہیں گیس ختم ہونے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے، لیکن گھبراہٹ کی وجہ سے بکنگ میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ گھبراہٹ میں بکنگ نہ کریں اور اس عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران جہاں ممکن ہو ایندھن کی بچت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کے علاوہ دیگر ایندھن بھی صارفین کے لیے دستیاب کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاکہ گیس پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ‘آج ایک حکم جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت اضافی 48 ہزار کلو لیٹر مٹی کا تیل ریاستوں کو فراہم کیا جائے گا’۔ یہاں بھی مستفید ہونے والوں کی شناخت اور تقسیم میں ریاستی حکومتوں کا کردار اہم ہوگا۔










