جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کی فوری واپسی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-11
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

کشمیر کے تقریباً۶۰۰ کشمیری طلبا ایران کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اس وقت سخت خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان طلبا کو تہران سے منتقل کر کے قم شہر میں رکھا گیا ہے تاکہ انہیں نسبتاً محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ تاہم اب وہاں بھی حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ طلبا کے مطابق ان کے قیام گاہ کے نزدیک کئی فضائی حملے ہو چکے ہیں اور ایک حملہ تو محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ہوا جس سے عمارت تک لرز اٹھی۔ رات کے سناٹے میں دھماکوں کی آوازوں سے بیدار ہونے والے ان نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ان میں سے بیشتر پہلی بار بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور جنگی حالات میں محصور ہو کر اپنی جانوں کے لیے فکرمند ہیں۔ ان کے اہل خانہ کشمیر میں شدید اضطراب اور بے چینی کے عالم میں ہیں۔

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

بھارتی سفارت خانہ تہران میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام تو کر رہا ہے، لیکن ان کی وطن واپسی کے حوالے سے ابھی تک واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ یہی غیر یقینی صورتحال طلبا اور ان کے اہل خانہ کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بن رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں ایران اور آرمینیا کی سرحد تک زمینی راستے سے پہنچانے کا منصوبہ زیر غور ہے، مگر یہ سفر تقریباً بیس گھنٹے پر محیط ہے اور موجودہ حالات میں اسے محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔ دوسری جانب آرمینیا سے نئی دہلی تک فضائی سفر کے اخراجات بھی اس قدر زیادہ ہیں کہ طلبا کے لیے اپنے طور پر اس کا انتظام کرنا ممکن نہیں۔

یہ صورتحال حکومت ہند کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ پارلیمنٹ میں وزیر خارجہ کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیان میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ خطے میں جاری جنگ نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ ہندوستان کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم ہیں جبکہ ایران میں بھی ہزاروں ہندوستانی تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں موجود ہیں۔ حکومت نے اس بحران کے آغاز سے ہی احتیاطی اقدامات کیے، سفری مشورے جاری کیے اور شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی دی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں طلبا اب بھی وہاں موجود ہیں اور جنگی حالات کے باعث ان کا انخلا آسان نہیں رہا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے نازک وقت میں حکومت کو کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ ایران میں موجود تمام بھارتی طلبا، خصوصاً کشمیری طلبا، کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ صرف قیام و طعام کے انتظامات کرنا کافی نہیں بلکہ ایک واضح اور منظم انخلا کا منصوبہ بھی ضروری ہے۔ حکومت ہند نے ماضی میں ایسے کئی مواقع پر قابل تعریف اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران وزارت خارجہ نے ’’آپریشن سندھُو‘‘ کے تحت متعدد بھارتی شہریوں اور طلبا کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو مشکل ترین حالات میں بھی شہریوں کی حفاظت ممکن ہے۔

موجودہ بحران میں بھی اسی نوعیت کی مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایک خصوصی انخلا مہم شروع کرے، جس کے تحت ایران میں موجود طلبا کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جائے اور وہاں سے خصوصی پروازوں یا دیگر متبادل ذرائع کے ذریعے انہیں ہندوستان واپس لایا جائے۔ اس مقصد کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کو مزید فعال بنانا ہوگا تاکہ سرحدی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور طلبا کی نقل و حرکت آسان ہو سکے۔

اس معاملے میں جموں و کشمیر کی حکومت کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چونکہ متاثرہ طلبا کی بڑی تعداد کشمیر سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے مقامی حکومت کو اس مسئلے کو محض ایک بیرونی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ مسلسل وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہے اور طلبا کی واپسی کے لیے بھرپور پیروی کرے۔ وزیر اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ مرکزی حکومت کے سامنے اس مسئلے کو بار بار اٹھائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ کشمیری طلبا کے تحفظ اور واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومت کو طلبا کے اہل خانہ کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھنا چاہیے تاکہ انہیں بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔ جنگی حالات میں اطلاعات کی کمی اکثر خوف اور افواہوں کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت باقاعدہ طور پر صورتحال کی تازہ معلومات فراہم کرتی رہے تو عوام میں اعتماد برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، واپس آنے والے طلبا کے لیے مناسب انتظامات بھی کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے نکل کر دوبارہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی طرف لوٹ سکیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبا کی ایک بڑی تعداد طبی اور دینی علوم کے شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان نوجوانوں نے بہتر مستقبل کی امید میں ہزاروں میل دور جا کر تعلیم کا انتخاب کیا تھا، مگر جنگی حالات نے انہیں اچانک خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں ریاست اور ملک دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔

مغربی ایشیا کی موجودہ کشیدگی کب ختم ہوگی، اس بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ جنگی حالات میں انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایران میں موجود کشمیری طلبا کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کسی بھی قسم کی تاخیر یا غیر یقینی صورتحال کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ اپنی سفارتی اور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان طلبا کو جلد از جلد وطن واپس لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران میں محصور کشمیری طلبا کا مسئلہ صرف چند سو نوجوانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور قومی ذمہ داری ہے۔ جب تک وہ بحفاظت اپنے گھروں تک نہیں پہنچ جاتے، تب تک حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی اگر بروقت اور مؤثر اقدام کیا جائے تو نہ صرف ان طلبا کی جانیں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں بلکہ حکومت پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔ کشمیر کے والدین کی نظریں اس وقت دہلی اور سرینگر دونوں حکومتوں پر مرکوز ہیں، اور وہ یہی امید کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کو جلد اور محفوظ طریقے سے وطن واپس لایا جائے گا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ہندوستانی نوجوانوں کی توقعات،ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے: وزیر اعظم مودی

Next Post

ڈرگس….!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

ڈرگس....!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.