پٹنہ، 25 فروری (یو این آئی) بی جے پی کے صدر نتن نبین نے بدھ کے روز کانگریس اور نہرو۔گاندھی خاندان پر سخت سیاسی حملہ کرتے ہوئے ان پر قومی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔
مسٹر نبین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک کی تاریخ اور موجودہ سیاست میں کانگریس قیادت کے کردار پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
دوسری جانب انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ بی جے پی ‘پہلے قوم، پھر پارٹی اور سب سے آخر میں خود’ کے اصول پر قائم ہے جہاں صرف قومی مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ان کے مطابق کانگریس کی سیاست میں پہلے خود، پھر پارٹی اور آخر میں ملک کو رکھا گیا جہاں ہمیشہ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو فوقیت دی گئی۔
پٹنہ میں گفتگو کے دوران انہوں نے الزام لگایا کہ نہرو۔گاندھی خاندان نے کئی مواقع پر اپنے مفادات کو قومی مفاد سے بالاتر رکھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1954 میں جواہر لال نہرو نے تبت میں ہندوستان کے حقوق چین کے حوالے کر دیے تھے۔
مسٹر نبین نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں کانگریس کے انتخابی مہم کے حوالے سے غیر ملکی فنڈنگ کے معاملات سامنے آئے تھے جن سے قومی مفادات متاثر ہوئے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے منسلک دفاعی سودوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان معاملات کی سنجیدہ جانچ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کانگریس رہنما راہل گاندھی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ بیرونِ ملک جا کر ہندوستان کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور غیر ملکی طاقتوں کے اثر میں سیاست کرتے ہیں۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کا طرزِ عمل اپوزیشن کے ذمہ دارانہ کردار کے مطابق نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر نبین کا یہ بیان کانگریس کی طرف سے مرکزی حکومت پر لگائے جا رہے الزامات کے تناظر میں آیا ہے اور اسے دونوں پارٹیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تنازعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔










