تو صاحب خبر ‘ ایک دم تازہ خبر یہ ہے کہ اپنے ٹرمپ صاحب نے کہا ہے …….یہ کہا ہے کہ اگر وہ نہیں روکتے ‘ ہند پاک کو گزشتہ سال مئی میں روکتے نہیں تو …….توآر پار ساڈھے تین کروڑ لوگ مارے جاتے ……. ہلاک ہو جاتے ۔ساڈھے تین کروڑ؟سننے میں تو یہ بڑی ڈراؤنی بات لگتی ہے کہ ……. کہ ساڈھے تین کروڑ سچ میں کوئی چھوٹی موٹی تعداد نہیں ہے ……. جی کرتا ہے کہ ہم اس کیلئے ٹرمپ صاحب کا شکریہ بھی ادا کریں کہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں اموات کو روک دیا ۔لیکن ……. لیکن جب ٹرمپ صاحب ساتھ میں یہ کہتے ہیں کہ ……. کہ انہیں یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بتائی ہے تو ……. تو غبارے سے ساری ہوا ہی نکل جاتی ہے …….اور ٹرمپ صاحب کے تئیں ہمارے اس نازک سے دل میں جو نازک سے جذبات امڈ آئے تھے وہ بھی نو دو گیارہ ہو گئے اور ……. اور اس لئے ہو گئے کہ ……. کہ اتنی بڑی بات ‘ جو اتنا بڑا لیڈر کہہ رہے کا سورس چھوٹا نہیں ……. بلکہ ایک بہت چھوٹا آدمی ہے جو شکل سے ہی نہیں بلکہ عقل سے بھی مسخرہ ہے ۔ٹرمپ صاحب !آپ بھی نا کمال کرتے ہیں ……. اللہ میاں کی قسم آپ سے اس حماقت کی توقع نہیں تھی ……. بالکل بھی نہیں تھی ۔ آپ ایک ایسے شخص کی بات پر بھروسہ کر بیٹھے ہیں جس پر اپنی قوم بھروسہ نہیں کرتی ہے……. جس کو اپنی قوم کا اعتماد حاصل نہیں ہے اسے آپ قابل اعتماد کیسے سمجھ لیتے ہیں ……. آپ سے کیسے یہ غلطی سرزد ہوئی ؟ شہباز شریف جیسے مسخرے اور ان کی باتوں پر بھروسہ کرکے ہمارا آپ پر سے بھروسہ اٹھ رہاہے کہ بھلا آپ نے اس سب کو کیسے سچ مان لیا جو آپ کو شہباز نے بتا دیا کہ ……. کہ بسا اوقات اس مسخرے کو خود اس بات کا خیال نہیں رہتا ہے اور ……. اور بالکل بھی نہیں رہتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیا نہیں ……. انہیں کیا کہنا ہے اور کیانہیں ۔ٹرمپ صاحب !ہمارا آپ کو ایک ہی مشورہ ہے ……. یہ مشورہ کہ شہباز شریف نہ جانے آپ سے اور کیا کیا کہیں گے ……. اچھا یہ ہو گا کہ آپ ان کی باتوں کو ایک کان سے سن لیں اور دوسرے کان سے نکال باہر کر لیں کہ ……. کہ اگر آپ نے ان کی کہی ہو ئیں باتوں کو دہرانا شروع کردیا تو ……. تو اللہ میاں کی قسم آپ بھی شہباز شریف کی صف میں شامل ہو جائیں گے ……. آپ کو بھی مسخرہ سمجھا جائے گا اور ……. اور سو فیصد سمجھا جائے گا ۔ ہے نا؟




