نئی دہلی، 23 فروری (یواین آئی)
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے پیر کو یہاں راشٹرپتی بھون میں ’راجا اُتسو‘ کے دوران عظیم مجاہدِ آزادی اور پہلے ہندوستانی گورنر جنرل سی۔راجاگوپالاچاری کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔
محترمہ مرمو نے اسے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ “آج مجھے راشٹرپتی بھون میں نصب ان کے مجسمے کی نقاب کشائی کا تاریخی موقع ملا۔ میں ان کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں۔ چکرورتی راج گوپالاچاری کو خراج پیش کرکے ہم نے ہندوستان کے وقار کو عزت دی ہے۔”
راجگوپالاچاری کا یہ مجسمہ راشٹرپتی بھون میں نصب برطانوی معمار اڈون لوٹینس کے مجسمے کی جگہ نصب کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ نوآبادیاتی علامات سے آگے بڑھ کر ہندوستانی شناخت کو عزت دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ نقاب کشائی کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابلِ ستائش کوشش ہے جو ہندوستان کی تقدیر کو سنوارنے والی عظیم شخصیات کو خراج پیش کرنے اور نوآبادیاتی ذہنیت کے اثرات کو ترک کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ راج جی نے گورنمنٹ ہاؤس (راشٹرپتی بھون) میں اپنے کمرے میں رام کرشن پرمہنس اور مہاتما گاندھی کی تصاویر آویزاں کرکے ہندوستان کی روحانیت اور خدمت کی روایت کو اعلیٰ مقام دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی وراثت پر فخر کرنے اور غلامی کی ذہنیت کے اثرات کو ختم کرنے کی قومی مہم میں راج جی کے نظریات جھلکتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ غیر ملکی اقتدار کے دوران عوام سے فاصلہ رکھنا برطانوی حکمرانوں کی ایک سوچی سمجھی پالیسی تھی۔ انہوں نے کہاکہ “ہمارے آزاد ملک اور ہمارے جمہوری نظام میں عوام سے جڑے رہنا ہمارا اصول ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ راشٹرپتی بھون قوم کی عمارت ہے، تمام شہریوں کی عمارت ہے اور اس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔”









