ملک گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کی اعانت یافتہ دہشت گردی کے باعث پنجاب اور جموں و کشمیر بالخصوص جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ہزاروں بے گناہ افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں نے دہشت گردی کی کمر توڑی اور اس کے ایکو سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ ملک کے پاس ایک واضح، ہمہ گیر اور مستقبل بین انسدادِ دہشت گردی پالیسی ہو۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی ’پراہار‘ اسی سمت میں ایک اہم اور بروقت قدم ہے۔
یہ پالیسی یک کثیرالجہتی حکمتِ عملی ہے، جس کی بنیاد ’زیرو ٹالرنس‘ یعنی دہشت گردی کے لیے مکمل عدم برداشت پر رکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردوں، ان کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کو فنڈز، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی سے محروم کرنا ہے۔ پالیسی سات بنیادی ستونوں پر استوار ہے:انسداد اور پیش بندی، فوری ردِعمل، داخلی صلاحیتوں کا انضمام، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی عمل، دہشت گردی کو فروغ دینے والے عوامل کا خاتمہ، بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی، اور بحالی و استحکام کے لیے پورے معاشرے کی شمولیت۔
پراہار کی سب سے اہم خصوصیت اس کا پیشگی اور انٹیلی جنس پر مبنی انداز ہے۔ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے چہروں اور طریقہ کار کے پیش نظر، روایتی سکیورٹی اقدامات ناکافی ثابت ہو سکتے تھے۔ جدید ٹیکنالوجی—جیسے انکرپشن، ڈارک ویب، کرپٹو والٹس، ڈرونز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز—نے دہشت گرد گروہوں کو ایک طرح کی ’پوشیدگی کی چادر‘ فراہم کر دی ہے۔
اس پس منظر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، ملٹی ایجنسی سنٹر (ایم اے سی)اور انٹیلی جنس بیورو میں جوائنٹ ٹاسک فورس آن انٹیلی جنس (جے ٹی ایف آئی) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کا نظام پالیسی کا اہم ستون ہے۔ اس سے مرکز اور ریاستی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوئی ہے۔
پالیسی اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتی ہے کہ دہشت گردی اب صرف بارود اور بندوق تک محدود نہیں رہی۔ کیمیکل، بائیولوجیکل، ریڈیولوجیکل، نیوکلیئر، ایکسپلوسِو اور ڈیجیٹل (CBRNED) مواد کے ممکنہ استعمال کا خطرہ موجود ہے۔ اسی طرح سائبر حملے، روبوٹکس اور ڈرونز کے ذریعے تخریب کاری ایک نیا چیلنج ہے۔ پراہار ان خطرات کا ادراک کرتے ہوئے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیتی ہے تاکہ مستقبل کے خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔
ایک اور اہم پہلو دہشت گردی کی مالیاتی سپلائی لائن کا خاتمہ ہے۔ پالیسی واضح کرتی ہے کہ دہشت گرد گروہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے لاجسٹکس، اسلحہ اور بھرتی کا نظام چلاتے ہیں۔ اس ضمن میں بھارتی قوانین کے تحت دہشت گردی کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے سخت قانونی اقدامات، اوور گراؤنڈ ورکرزکے نیٹ ورکس کی بیخ کنی اور غیر قانونی اسلحہ سنڈیکیٹس کے خلاف مربوط کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
اہم بات یہ ہے کہ پراہار دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، قومیت یا تہذیب سے جوڑنے کی نفی کرتی ہے۔ یہ ایک اصولی مؤقف ہے جو بھارت کے آئینی اور جمہوری تشخص کے مطابق ہے۔ پالیسی میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر واضح زور دیا گیا ہے، اور اس امر کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہر ملزم کو ضلعی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک قانونی چارہ جوئی کے متعدد مواقع میسر ہیں۔ یہ توازن—سختی اور انصاف کے درمیان—ہی کسی بھی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی اخلاقی بنیاد بنتا ہے۔
تاہم، صرف عسکری اور قانونی اقدامات کافی نہیں۔ پالیسی غربت، بے روزگاری اور سماجی محرومی جیسے عوامل کو بھی دہشت گردی کے لیے سازگار زمین تسلیم کرتی ہے۔ حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی منصوبوں کا مقصد انہی کمزوریوں کو دور کرنا ہے تاکہ شدت پسند عناصر ان حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ خاص طور پر قبائلی اور سرحدی علاقوں میں ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی نہایت اہم ہے، تاکہ وہاں کے عوام خود کو قومی دھارے کا حصہ محسوس کریں۔
بین الاقوامی تعاون بھی پراہار کا ایک کلیدی جز ہے۔ دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں کے ذریعے مطلوب دہشت گردوں کی حوالگی، عالمی سطح پر تنظیموں کی نامزدگی اور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارمز پر فعال سفارت کاری اس بات کی علامت ہے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف عالمی محاذ پر بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹرانس نیشنل دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے قومی اقدامات کو بین الاقوامی ہم آہنگی کے ساتھ جوڑنا وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں—بالخصوص جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے ایکو سسٹم کی بیخ کنی‘اسی جامع نقطۂ نظر کا نتیجہ ہیں۔ لیکن تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ خود اطمینانی خطرناک ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کی نوعیت بدلتی رہتی ہے، اس لیے پالیسی اور قانونی ڈھانچے میں وقتاً فوقتاً ترمیم ناگزیر ہے۔ تحقیق کے ہر مرحلے پر قانونی ماہرین کی شمولیت اور مضبوط پراسیکیوشن نظام اس امر کو یقینی بنا سکتا ہے کہ مجرم سزا سے نہ بچ سکیں۔
پراہار کی اصل کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔ اگر مرکز اور ریاستیں باہمی اعتماد اور تعاون کے ساتھ اس حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنائیں، اگر سکیورٹی ایجنسیوں کو مطلوب وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی جائے، اور اگر ترقیاتی اقدامات زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں، تو یہ پالیسی دہشت گردی کے خلاف بھارت کے عزم کی مضبوط ترین علامت بن سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بندوق کی جنگ نہیں، بلکہ نظریات، ترقی، انصاف اور قومی یکجہتی کی جنگ بھی ہے۔ پراہار اسی جامع سوچ کا اظہار ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے مستقبل کے خطرات کا سامنا کرنے کی تیاری کا اعلان کرتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عزم کو مستقل مزاجی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تاکہ ملک کو درپیش اس دیرینہ خطرے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔





