پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد ایک بار پھر خودمختاری، سرحد پار دہشت گردی اور جوابی کارروائی کے جواز پر بحث چھڑ گئی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی قومی سلامتی کے دفاع میں کارروائی کی کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کر رہے تھے۔ افغان طالبان نے اسے علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا اور سخت ردعمل دیا۔
لیکن اس تازہ تنازعے کو محض پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا تصویر کا ادھورا رخ ہوگا۔ اصل سوال اس اصولی مؤقف کا ہے جسے پاکستان اس وقت اختیار کر رہا ہے۔ اگر کوئی ریاست یہ دعویٰ کرے کہ اس کی سرزمین کے خلاف سرگرم عناصر ہمسایہ ملک میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ سرحد پار کارروائی کو جائز قرار دے، تو یہی دلیل گزشتہ چار دہائیوں سے بھارت بھی پیش کرتا رہا ہے۔
یہاں اصل بحث افغانستان نہیں، بلکہ وہ دہرا معیار ہے جو پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرتا ہے۔
پاکستان افغانستان پر یہ الزام لگا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق حالیہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے ایسے عناصر ہیں جو افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یقیناً کسی بھی ریاست کے لیے اپنی سلامتی کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن یہی سوال پاکستان کے اپنے کردار پر بھی اٹھتا ہے۔
بھارت برسوں سے یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پنجاب سے لے کر جموں و کشمیر میں دہشت گردی تک، سرحد پار معاونت اور تربیت یافتہ عناصر کا کردار موجود رہا ہے۔ ممبئی حملوں سے لے کر پٹھان کوٹ اور اوڑی تک، نئی دہلی نے مسلسل پاکستان میں موجود گروہوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پاکستان ان الزامات کو سیاسی پروپیگنڈا قرار دیتا رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر متعدد مواقع پر کالعدم تنظیموں کے ڈھانچے، ان کے قائدین اور ان کے نیٹ ورکس پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آج کا بیانیہ تضاد کا شکار نظر آتا ہے۔
اگر پاکستان یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنی سرزمین ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے، تو کیا یہی اصول اس کی اپنی پالیسیوں پر لاگو نہیں ہوتا؟ اگر افغانستان میں مبینہ پناہ گاہیں پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہیں، تو کیا بھارت کے لیے پاکستان میں موجود ایسے عناصر قابل قبول ہو سکتے ہیں جن پر وہ سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے؟
اصول کی طاقت اس کی یکسانیت میں ہوتی ہے، نہ کہ اس کے انتخابی اطلاق میں۔پاکستان نے افغانستان میں کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف پیشگی دفاع قرار دیا ہے اور خودمختاری کی بحث کو ثانوی حیثیت دی ہے۔ لیکن جب بھارت نے۲۰۱۶میں ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ یا۲۰۱۹ میں بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا، تو پاکستان نے اسے اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور بین الاقوامی سطح پر شدید احتجاج کیا۔ اگر سرحد پار حملہ ایک صورت میں دہشت گردی کے خلاف اقدام ہے تو دوسری صورت میں خودمختاری کی خلاف ورزی کیوں؟
یہی تضاد عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے۔یہ امر اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں نے ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کیا۔ ایسے میں حکومت پر دباؤ بڑھتا ہے کہ وہ فوری اور سخت اقدامات کرے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور اخلاقی برتری کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کا اپنا دامن بھی صاف ہو۔
پاکستان اگر واقعی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے سرگرم گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، تو اسے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ متعلقہ تنظیمیں کالعدم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کے نیٹ ورکس مکمل طور پر تحلیل ہو چکے ہیں؟ کیا ان کی مالی معاونت، نظریاتی حمایت اور تنظیمی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اخلاقی بنیاد پر اعتراض کمزور پڑ جاتا ہے۔
افغانستان کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل سبق خود پاکستان کے لیے ہے۔
سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا ہتھیار ہے جو وقتی طور پر تزویراتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں وہی آگ پلٹ کر اپنے گھر کو جلا دیتی ہے۔ خطے کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جن گروہوں کو کبھی ’اسٹریٹجک اثاثہ‘ سمجھا گیا، وہ بعد میں داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے۔ آج جب پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف برسرپیکار ہے، تو اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ غیر ریاستی عناصر کے استعمال کی پالیسی بالآخر ریاستی اختیار کو کمزور کرتی ہے۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ اصولی احتساب کا ہے۔پاکستان کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کس عالمی اصول کے ساتھ کھڑا ہے:کیا ہر ریاست کی خودمختاری ناقابل تنسیخ ہے اور کسی بھی صورت سرحد پار مسلح کارروائی ناقابل قبول ہے؟ یا پھر وہ یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اگر ہمسایہ ملک اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو یکطرفہ اقدام جائز ہے؟ دونوں مؤقف ایک ساتھ اختیار نہیں کیے جا سکتے۔
اگر اسلام آباد واقعی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بیانیے اور عمل میں ہم آہنگی لانا ہوگی۔ بھارت میں سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا، مشکوک نیٹ ورکس کا حقیقی خاتمہ کرنا اور علاقائی امن کو ترجیح دینا اسی سمت میں ضروری قدم ہوں گے۔
افغانستان کا معاملہ عارضی کشیدگی ہو سکتا ہے، لیکن اصل امتحان پاکستان کے اپنے اندر ہے۔ جب تک دہرا معیار ترک نہیں کیا جاتا، اس کی ہر سفارتی دلیل کمزور بنیاد پر کھڑی رہے گی۔خطے میں پائیدار امن کا راستہ صرف ایک ہے: یکساں اصول، واضح پالیسی اور غیر ریاستی عناصر سے مکمل لاتعلقی۔ ورنہ سرحدیں بدلتی رہیں گی، مگر بیانیے کا تضاد برقرار رہے گا۔





