تو صاحب اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘ وزیرا علیٰ عمرعبداللہ کاکہنا ہے کہ …….کہ کشمیر ‘ جموںکشمیر میں اتنی نوکریاں یا روز گار کے مواقع پیدا کئے جانے چاہئیں تاکہ ہمیں ……. ہم کشمیریوں کو باہر جانے کی ضرورت نہ رہے …….اورہ ان حملوں سے بچ جائیں جو ان پر وہاں کئے جاتے ہیں ۔یقین کریں ہمیں یقین نہیں ہو رہا ہے کہ کیا واقعی ‘ عمرعبداللہ جو جموں کشمیر کے وزیرا علیٰ ہیں ‘ ایسا بھی کہہ سکتے ہیں …….کہ ہمارا جاننااور ماننا ہے کہ جناب ایسا نہیں کہہ سکتے ہیں …….جناب کو ایسا نہیں کہنا چاہئے۔ مانتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ نے ایسا اس لئے کہا کیوں کہ ملک کے کچھ حصوں میں کشمیریوں کے ساتھ نا مناسب سلوک کیا جارہاہے …….ان کی مار پیٹ کی جاتی ہے‘ جسمانی کے ساتھ ساتھ انہیں نفسیاتی اذیتوں سے بھی دو چار کیا جارہاہے …….ہم یہ بات مانتے ہیں اور سو فیصد مانتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کی فکر مندی بھی قابل فہم ہے لیکن ……لیکن ان کی یہ بات بالکل بھی قابل فہم نہیں ہے کہ ہمیں روز گار کے اتنے مواقع کے پیدا کرنے چاہئیں تاکہ کشمیریوں کو باہر جانے کی ضرورت نہ رہے ۔ وزیر اعلیٰ صاحب !آپ شوق سے روز گار کے نئے مواقع پیدا کیجئے اور اللہ میاں کی قسم ہول سیل میں کیجئے کہ کشمیر…….جموں کشمیر کو اس کی ضرورت بھی ہے ‘ لیکن صاحب یہ کیا بات ہوئی کہ ……کہ کشمیری ڈر سے باہر نہ جائیں …….نہیں صاحب ‘ ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں …….اس لئے نہیں کر سکتے ہیں کہ اول تو ایسا ممکن نہیں ہے …….آپ چاہتے ہوئے بھی روز گار کے اتنے مواقع پیدا نہیں کر سکتے ہیں کہ کشمیریوں کو گھر بیٹھے سب مل جائے اور…….اور ایسا ہو نا بھی نہیں چاہئے کہ …….کہ یہ ملک کشمیریوں کا بھی ہے اور سو فیصد ہے ۔اتنا ہی ہے جتنا کسی اور کا ہے ……اس سے کم اور نہ زیادہ ہے۔ تو وزیرا علیٰ صاحب پھر ہم کشمیری ملک کے دوسرے حصوں میں کیوں نہ جائیں ‘ روزی روٹی کمانے اور اعلیٰ تعلیم اور پیشہ وارانہ مہارت حاصل کرنے کیلئے ؟رہی بات ان غنڈوں کی جو کبھی اترا کھنڈ‘ تو کبھی ہماچل ‘ کبھی یو پی تو کبھی بنگلور میں کبھی کبھی سر اٹھاتے ہیں …….یہ مٹھی بھر لوگ ہیں‘ غنڈے ہیں جن سے یہ ملک ‘ اس ملک کے لوگ ‘ اس کا قانون اور آئین نمٹنے کیلئے ’سکشم ‘ ہے…….کافی ہے ‘ لیکن ہاں روز گار کے مواقع کشمیر میں سچ میں ناکافی ہیں۔ ہے نا؟



