جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کشمیر میں ڈیجیٹل لت: 

ایک خاموش بحران جسے ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-01-31
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

حکومتِ ہند کے اقتصادی سروے میں بچوں اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل لت پر جو تشویش ظاہر کی گئی ہے، وہ محض ایک پالیسی نوٹ یا تکنیکی سفارش نہیں بلکہ ایک واضح وارننگ ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات اب اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ ذہنی صحت، سماجی رویّوں اور تعلیمی نظام کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد، آن لائن کلاسز میں کمی، اور اسکرین ٹائم کو محدود کرنے جیسی تجاویز اس بحران کی سنگینی کو خود بخود واضح کر دیتی ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم، بالخصوص کشمیر کا معاشرہ، اس بحران کو واقعی بحران سمجھ رہا ہے؟بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔
کشمیر میں ڈیجیٹل لت ایک’خاموش وبا‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو گھروں کے اندر، اسکولوں کے کمروں میں اور بچوں کے ذہنوں میں پھیل رہی ہے، مگر نہ حکومت اس پر سنجیدہ ہے، نہ سماج، اور نہ ہی تعلیمی ادارے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مسئلے پر گفتگو تک نہیں ہو رہی، جیسے یہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔
اقتصادی سروے درست نشاندہی کرتا ہے کہ کم عمر بچے سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ، شارٹ ویڈیوز اور آٹو پلے فیچرز کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ کشمیر میں اس کی مثالیں ہر گھر میں مل جائیں گی۔ موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ بچوں کی نرسری، استاد، دوست اور کھلونا  سب کچھ بن چکا ہے۔ ماں کی کوکھ سے لے کر گود تک، اور گود سے اسکول تک، بچہ ڈیجیٹل اسکرین کے سائے میں پرورش پا رہا ہے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ آج کشمیر میں دودھ پیتے بچوں کے ہاتھوں میں بھی موبائل فون تھما دیا جاتا ہے۔ روتے بچے کو چپ کرانے کے لیے ماں باپ لوری کے بجائے یوٹیوب کھول دیتے ہیں، تاکہ بچہ خاموش رہے اور والدین’سکون سے اپنا کام‘ کر سکیں۔ اس لمحاتی سکون کی قیمت بچے کی ذہنی نشوونما، توجہ، نیند اور جذباتی توازن ادا کر رہا ہوتا ہے، مگر اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا۔
یوں ڈیجیٹل لت بچپن کی پہلی سانسوں کے ساتھ بچے کے وجود میں شامل ہو جاتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں اسکول بھی بری الذمہ نہیں ہیں۔ اقتصادی سروے جس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے، کشمیر میں اس کی مثالیں کھل کر نظر آتی ہیں۔ آن لائن اسائنمنٹس، واٹس ایپ گروپس، ڈیجیٹل ہوم ورک، اور اسکرین پر مبنی سیکھنے کے طریقے اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ بچے کا تعلیمی دن بھی اسکرین سے شروع ہوتا ہے اور اسکرین پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔
کووڈ ۲۰۱۹کے بعد آن لائن تعلیم کو ایک عارضی حل کے بجائے مستقل عادت بنا دیا گیا، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کے نفسیاتی اثرات پر نہ کوئی تحقیق ہوئی، نہ کوئی احتساب۔ کشمیر میں نہ تو ڈیجیٹل ویلنس نصاب متعارف کرایا گیا، نہ اساتذہ کو اسکرین ٹائم کے نقصانات سے نمٹنے کی تربیت دی گئی، اور نہ ہی اسکول انتظامیہ اس بات کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
والدین کی حالت بھی مختلف نہیں۔ بیشتر والدین اس مسئلے کو یا تو سمجھتے ہی نہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ موبائل فون ایک ’ڈیجیٹل آیا‘ بن چکا ہے جو بچے کو مصروف رکھتا ہے، سوال نہیں کرتا، ضد نہیں کرتا، اور والدین کو وقتی آزادی فراہم کرتا ہے۔ مگر اس آزادی کی قیمت بچے کی ذہنی صحت ادا کر رہی ہے۔
اقتصادی سروے درست کہتا ہے کہ ڈیجیٹل لت بے چینی، ڈپریشن، کم خود اعتمادی، سائبر بُلینگ اور سماجی تنہائی کو جنم دیتی ہے۔ کشمیر میں ان مسائل کے آثار پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ بچوں میں چڑچڑاپن، توجہ کی کمی، نیند کی خرابی، اور نوجوانوں میں اضطراب، غصہ اور سماجی بے زاری عام ہوتی جا رہی ہے، مگر ہم اسے ’نارمل‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہاں سب سے بڑا سوال حکومت کا ہے۔اگر واقعی حکومت ڈیجیٹل لت کو ایک سنگین مسئلہ سمجھتی ہے تو کشمیر میں اس کے سدباب کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟کیا کوئی جامع پالیسی ہے؟کیا اسکولوں میں اسکرین ٹائم کے ضوابط موجود ہیں؟کیا والدین کی تربیت کے لیے ورکشاپس ہو رہی ہیں؟کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی یا عمر کی تصدیق پر کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہے؟جواب ایک بار پھر خاموشی ہے۔
کشمیر میں حکومت کی ترجیحات میں ڈیجیٹل لت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یہ نہ کوئی سیاسی نعرہ ہے، نہ کوئی فوری انتخابی مسئلہ، اس لیے شاید اسے نظر انداز کرنا آسان ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو بحران خاموشی سے پنپتے ہیں، وہی بعد میں سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
اقتصادی سروے نے دنیا کی مثالیں دی ہیں  ‘آسٹریلیا، چین، جنوبی کوریا ‘ جہاں ریاست نے مداخلت کی، حدود مقرر کیں، اور معاشرے کو خبردار کیا۔ کشمیر میں اس کے برعکس، ایک اجتماعی بے حسی ہے۔ معاشرہ، ریاست، اسکول اور والدین سب مل کر اس مسئلے کو’غیر مسئلہ‘ بنائے ہوئے ہیں۔
یہ اداریہ کسی ٹیکنالوجی دشمنی کا اعلان نہیں، نہ ہی جدیدیت سے انکار ہے۔ سوال صرف توازن کا ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کے لیے ہو، انسان ٹیکنالوجی کے لیے نہیں۔ اگر ہم نے آج بچوں کے ہاتھ سے اسکرین چھیننے کی ہمت نہ کی، تو کل ہم ایک ایسی نسل کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو جسمانی طور پر موجود ہوگی مگر ذہنی طور پر منتشر، بے چین اور کھوئی ہوئی ہوگی۔
کشمیر جیسے حساس معاشرے میں، جہاں پہلے ہی ذہنی دباؤ، عدمِ استحکام اور صدمات کی تاریخ موجود ہے، ڈیجیٹل لت ایک اضافی زخم ہے ایسا زخم جو نظر نہیں آتا، مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم جاگیں۔حکومت پالیسی بنائے،اسکول ذمہ داری لیں،والدین خود احتساب کریں،اور معاشرہ اس خاموش بحران کو مسئلہ ماننے کی ہمت کرے۔کیونکہ جو معاشرہ اپنے بچوں کی ذہنی صحت کو مسئلہ نہیں سمجھتا، وہ اپنا مستقبل خود ہی داؤ پر لگا دیتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

حکومت مہارت کی ترقی کو صحیح سمت میں لے جا رہی ہے: سیتا رمن

Next Post

اِن حملوں کو روک لیجئے !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

اِن حملوں کو روک لیجئے !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.